مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 7
14 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 13 مسلم نوجوانوں کے کارنامے دین کی راہ میں قربانی 1 - حضرت عکرمہ بن ابو جہل نے قبول اسلام کے بعد یہ عہد کیا تھا کہ جتنی دولت اسلام کی مخالفت میں صرف کر چکا ہوں۔اس سے دو گنا خدمت اسلام میں صرف کروں گا اور اسلام کی مخالت میں جتنی لڑائیاں لڑا ہوں اس سے دو گنا اسلام کی تائید میں لڑوں گا۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد جوفتنہ ارتداد اٹھا اس میں شام کی معرکہ آرائیوں میں ان کے کا رہانے نمایاں سے تاریخ اسلام کے صفحات مزین ہیں۔اور اس طرح لڑائیوں کے متعلق انہوں نے اپنا عہد پورا کیا۔مالی قربانی کا یہ حال ہے کہ ان سب لڑائیوں کی تیاری اور اخراجات کے لیے آپ نے کبھی ایک حبہ بیت المال سے نہیں لیا۔جب لشکر اسلامی شام پر فوج کشی کے لیے تیار ہو رہا تھا تو حضرت ابو بکر فوج کے معائنہ کے لیے تشریف لے گئے۔تو ایک خیمہ کے باہر آپ نے دیکھا کہ چاروں طرف گھوڑے بندھے ہوئے ہیں۔تلوار میں اور دوسرا سامان جنگ با افراط رکھا ہے۔آپ قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہ خیمہ حضرت عکرمہ کا ہے اور سب سامان ان کا اپنا ہے۔آپ نے کچھ رقم اخراجات جنگ کے لیے ان کو دینا چاہی۔مگر انہوں نے لینے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ میرے پاس تا حال دو ہزار دینار موجود ہیں اس لیے بیت المال پر بوجھ ڈالنے کی مجھے ضرورت نہیں۔مالی قربانی کے علاوہ عزت کی قربانی بھی انسان کے لیے بہت مشکل ہوتی ہے۔اور کئی لوگ محض اس وجہ سے ہدایت سے محروم رہ جاتے ہیں کہ انہیں لوگوں کی نظروں سے گر جانے کا خوف ہوتا ہے لیکن صحابہ کی حالت بالکل مختلف تھی۔اور دین کی راہ میں وہ ہر چیز کی قربانی کے لیے تیار رہتے تھے۔حضرت سعد بن معاذ اپنے قبیلہ کے سردار تھے۔جب آپ نے اسلام قبول کیا تو قبیلہ کے لوگوں کو بھی اس کی اصلاح ہوگئی۔آپ جب ان میں پہنچے تو کھڑے ہوئے کر پوچھا کہ میں تم میں کس درجہ کا آدمی ہوں۔لوگوں نے کہا آپ سردار اور اہل فضیلت ہیں۔لیکن آپ نے فرمایا کہ جب تک تم لوگ اسلام قبول نہ کرو گے میں تم سے بات چیت کرنا پسند نہیں کرتا۔آپ کو اپنے قبیلہ میں جو اثر ورسوخ حاصل تھا۔اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ شام سے پہلے پہلے تمام قبیلہ مسلمان ہو گیا۔حضرت عبداللہ بن زید کے پاس جائیداد بہت قلیل تھی۔اور نہایت تنگی کے ساتھ بال بچوں کا پیٹ پالتے تھے لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ اسلام کے لیے مال کی ضرورت تھی۔جسے پورا کرنے کے لیے چندہ کی تحریک کی گئی۔حضرت عبداللہ کے پاس گو مال کی کمی تھی لیکن دل میں ایمانی حرارت موجود تھی۔اس سے مجبور ہو کر آپ کے پاس جو کچھ بھی تھا آپ نے سب کا سب خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیا۔ان کے باپ نے آکر آنحضرت ﷺ سے شکائتاً اس کا ذکر کیا۔تو آپ نے ان کو لا کر فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے تمہارا صدقہ قبول کر لیا ہے لیکن اب تمہارے باپ کی میراث کے طور پر تم کو واپس کرتا ہے۔تم اس کو قبول کرلو۔-4 جب قرآن کریم کی آیت مَن ذَا الَّذِي يُقَرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَناً نازل ہوئی تو ایک نوجوان صحابی حضرت ثابت بن و حداح آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اور عرض کیا یا رسول اللہ کیا خدا تعالیٰ ہم سے قرض مانگتا ہے۔آپ نے فرمایا: ہاں، یہ سننا تھا کہ د نیوی ضرورتیں، بیوی بچوں کی فکر اور مستقبل کا خیال سب چیزیں آپ کی نظر سے اوجھل ہو گئیں۔اور صرف خدا اور اس کا رسول اور اس کے دین کی ضرورت سامنے رہی۔چنانچہ آپ نے اپنا تمام مال صدقہ کر دیا۔5 جب آیت کریمہ لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون نازل ہوئی تو صحابہ نے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر قربانیاں پیش کیں۔ایک نوجوان صحابی حضرت ابوطلحہ نے اپنی ایک نہایت قیمتی جائیداد وقف کر دی۔اس میں ایک کنواں تھا جس کا پانی شیر میں تھا۔اور آنحضرت یہ اسے بہت شوق سے پیا کرتے تھے۔www۔alislam۔org