مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 6 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 6

مسلم نوجوانوں کے نامے رض 11 یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ اپنے بھائی کے لیے کس قدر ایثار پر آمادہ۔۔۔۔۔ہیں۔انہوں نے یہ پیشکش کر دی اور مہاجرین کے لیے انصار کے ایثار کی یہ ایک ایسی درخشاں مثال ہے کہ جس کی نظیر نہ تو آج تک تاریخ عالم پیش کر سکی ہے اور نہ آئندہ پیش کر سکے گی۔11۔ایک دفعہ ایک یتیم لڑکے نے ایک شخص پر ایک نخلستان کی ملکیت کے متعلق دعویٰ کیا۔آنحضرت ﷺ نے اس یتیم کے خلاف فیصلہ کیا۔جسے سن کر وہ رو پڑا۔ایک یتیم کی آنکھ سے ٹپکے ہوئے آنسو اس سراپا رحم اور مجسم شفقت انسان پر کوئی اثر نہ کرتے ، یہ ناممکن تھا۔چنانچہ آپ نے از راہ رحم اس شخص سے فرمایا کہ گو فیصلہ تمہارے حق میں ہے لیکن اگر یہ نخلستان اس بچے کو دے دو تو اللہ تعالیٰ اسکے عوض تمہیں جنت میں دے گا۔ہر انسان چونکہ عرفان کے صحیح مقام پر نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ ممکن ہے اس لیے اسے اس مشورہ کے قبول کرنے میں تامل تھا۔لیکن وہیں ایک اور صحابی حضرت ابوالدحداح * موجود تھے۔آنحضرت ﷺ کے منہ سے اس فقرہ کا سننا تھا کہ حضور کی خواہش کو پورا کرنے اور جنت میں اس کے عوض زیادہ باغات کے حصول کے خیال نے جائیداد کے لئے ان کی محبت کو سرد کر دیا۔اور انہوں نے فوراً اپنے دل میں فیصلہ کیا کہ ایک یتیم لڑکے لیے زیادہ سے زیادہ ایثار کا نمونہ دکھا ئیں۔چنانچہ انہوں نے اس باغ کے مالک سے کہا کہ تم میرا باغ لے لو اور اس کے عوض اپنا یہ باغ مجھے دے دو۔چونکہ یہ سودا نفع مند تھا۔وہ فوراً رضامند ہو گیا۔معاملے طے کر کے حضرت ابو الدحداح آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! جو نخلستان اس یتیم کو دلوانے کی آپ کی خواہش تھی وہ اگر میں دے دوں تو کیا مجھے جنت میں اس کے عوض باغ ملے گا۔آپ نے فرمایا ہاں چنا نچہ وہ باغ اس لڑکے کو دے دیا۔ہمارے دوست ان چند مثالوں پر اگر غور کریں اور دیکھیں کہ اپنے جذبات کو اپنے بھائیوں کے لیے قربان کرنے۔دو بھائیوں کے جھگڑے اور تنازعہ کا تصفیہ کرانے ،غریبوں کی امداد کرنے مسلم نوجوانوں کے کارنامے 12 اور انہیں قرض کے مصائب سے نجات دلانے ، دین کی راہ میں نقصان اٹھانے والے بھائیوں کے ساتھ سلوک کرنے اور ان کے لیے آسائش کے سامان بہم پہنچانے کے لیے ان پر کس قدر بھاری ذمہ داریاں ہیں تو نہایت ہی قلیل عرصہ میں مسلمانوں کی کایا پلٹ سکتی ہے۔اور بلحاظ قوم اس قدر عزت اور ترقی حاصل کر سکتے ہیں۔کہ جسے دیکھ کر دنیا دنگ رہ جائے۔لیکن اس کا کیا علاج؟ کہ ایثار کے مفہوم سے بھی مسلمان نا آشنا ہیں اور ان کی نگاہ اپنے نفس اور اپنے خاندان سے آگے جاہی نہیں سکتی۔حوالہ جات ا۔(استیعاب ج 3 ص 19) ۲۔(اصابہ ج 7 ص 58)۔(استیعاب ج 3 ص 393) ۴۔(مسند احمد ج 5 ص 238)۔(سیر انصار ج 2 ص 134) ۵۔(ابن سعد ج 3 ص 9) ے۔(استیعاب ج3ص539) ؟ ۹۔( بخاری کتاب الزکوۃ باب الاستعفاف عن المسئلة ) ١٠۔؟ ا۔(استیعاب ج 4 ص 210) www۔alislam۔org