مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 69
138 مسلم نوجوانوں کے کارنامـ 137 مسلم نوجوانوں کے رنامے 4 - حضرت مصعب بن عمیر نہایت خوشرو نوجوان تھے۔والدین مالدار تھے اس لیے بہت ناز و نعم میں پرورش پائی تھی۔نہایت بیش قیمت لباس زیب تن کیا کرتے تھے اور اعلی درجہ کی خوشبوئیں اور عطریات کے استعمال کے عادی تھے۔آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ مکہ میں مصعب سے زیادہ کوئی حسین ، خوش پوش اور ناز و نعم میں پلا ہوا نہیں۔لیکن یہ حالت اسلام لانے سے قبل کی تھی۔جب اسلام لائے تو رسول کریم ﷺ کی تربیت کا ایسا اثر ہوا کہ یہ تمام تکلفات فراموش ہو گئے۔اور یہاں تک تبدیلی پیدا ہوگئی کہ ایک دفعہ دربار نبوی میں حاضر ہوئے تو بدن پر ضروریات ستر کو پورا کرنے کے لیے صرف ایک کھال کا ٹکڑا تھا۔جس میں کئی پیوند لگے ہوئے تھے۔آنحضرت ﷺ نے دیکھا تو فرمایا۔الحمد اللہ اب سب اہل دنیا کی حالت بدل جانی چاہیے۔یہ وہ نوجوان ہے جس سے زیادہ ناز و غم کا پہلا ہوا مکہ میں کوئی نہ تھا۔لیکن خدا اور سول کی محبت نے اسے ظاہری تکلفات سے بے نیاز کر دیا ہے۔5- حضرت سلمان فارسی کے متعلق یہ ذکر آچکا ہے کہ آپ مدائن کے گورنر تھے۔لیکن طرزِ معاشرت اور ظاہری لباس میں اس قدر سادگی تھی کہ ایک دفعہ کسی شخص نے بازار سے گھاس خریدی تو انہیں مزدور سمجھ کر گانٹھے ان کے سر پر لاد دی۔کسی واقف کار نے دیکھا تو اس سے کہا کہ یہ تو ہمارے امیر اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہیں۔اس پر وہ بہت نادم ہوا معذرت چاہی اور گانٹھ اتارنے کے لیے لپکا۔مگر آپ نے فرمایا کہ نہیں اب تو تمہارے مکان پر پہنچ کر ہی اتاروں گا۔6- حضرت عبداللہ بن عمر کی زندگی دیگر صحابہ کی طرح بہت سادہ تھی۔ایک دفعہ کسی نے ان کے لیے بیش قیمت کپڑے بطور ہدیہ بھیجے تو انہیں یہ کہہ کر واپس کر دیئے کہ میں غرور کے خوف سے ان کو پہن نہیں سکتا۔7 صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا تمدن بے حد سادہ تھا۔حتی کہ شادی بیاہ کے مواقع پر بھی انتہائی سادگی نظر آتی تھی۔اگر کسی کے پاس مال و دولت نہ ہوتو وہ مقروض ہو کر اپنی زندگی کو تلخ نہیں بناتے تھے۔بلکہ جو میسر ہوا اسی پر کفایت کر لیتے تھے۔اور چونکہ یہ روح ہر ایک میں تھی اس لیے اس بات کو معیوب بھی خیال نہیں کیا جاتا تھا بلکہ اچھا سمجھا جاتا تھا۔ایک صحابی ایک عورت سے شادی کرنا چاہتا تھا۔آنحضرت ﷺ نے فرما یا مہر کے لیے کچھ ہے۔بولے صرف تہبند ہے۔آپ نے فرمایا اگر یہ مہر میں دے دو تو ستر پوشی کیسے کرسکو گے۔کچھ اور تلاش کرو۔اور نہیں تو لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی۔آپ نے قرآن کی چند سورتوں کا سکھانا مہر مقرر کر کے نکاح پڑھا دیا۔۲ حضرت ابوبکر کے متعلق سب کو معلوم ہے کہ آپ متمول اور امیر آدمی تھے۔علاوہ ازیں اسلام میں انکو بہت بڑا مقام حاصل تھا۔خاندانی وجاہت اور عزت کے علاوہ آپ اپنے زہد و تقدس او فدائیت کی وجہ سے تمام مسلمانوں کی آنکھ کا تارا تھے۔لیکن طرز معاشرت نہایت سادہ تھی۔نہایت معمولی لباس زیب تن فرماتے اور سادہ غذا کھاتے تھے۔9 - حضرت عمر نے اسلامی مجاہدین کے لیے جو چیزیں ضروری قرار دے رکھی تھیں۔ان میں اس بات کا خاص خیال رکھا تھا کہ ان میں عیش و عشرت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی طرف رغبت پیدا نہ ہو سکے۔اور مشقت پسندی ، اور تکالیف کی برداشت کی عادت اور جفا کشی قائم رہے۔چنانچہ ان کو تیرنے۔گھوڑے کی سواری، نشانہ بازی، اور ننگے پاؤں چلنے کی مشق کرائی جاتی تھی۔نیز حکم تھا کہ وہ رکاب کے سہارے گھوڑے پر سوار نہ ہوں ،حماموں میں غسل نہ کیا کریں، دھوپ میں کھانا کھانا نہ چھوڑیں اور نرم کپڑے نہ پہنا کریں۔10 - یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ صحابہ کی سادگی تنگ دستی کی وجہ سے تھی۔وہ سادہ زندگی اس واسطے بسر کرتے تھے کہ اسوہ رسول کریم ﷺ اور تعلیم اسلام سے انہوں نے یہی اخذ کیا تھا۔اور اسے تعلیم اسلام کا ایک ضروری حصہ سمجھتے تھے۔چنانچہ روم و ایران کی فتوحات کے بعد بھی جب دولت و اموال کی کثرت تھی اس وقت بھی صحابہ کرام نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ایک دفعہ ام المومنین حفصہ نے حضرت عمر سے کہا کہ اب تو خدا تعالیٰ نے فراخی عطا www۔alislam۔org