مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 66
مسلم نوجوانوں کے ی کارنامے گردنیں جھک جائیں۔131 17 - ایک صحابی کا مکان مسجد سے بہت دور تھا مگر بایں ہمہ وہ کوئی نماز قضا نہ ہونے دیتے تھے اور با قاعدہ مسجد میں آکر ادا کرتے تھے۔ایک صحابی نے ان سے کہا کہ کاش آپ سواری کے لیے گدھا خرید لیں تا دھوپ اور اندھیرے میں آنے جانے میں تکلیف نہ ہو۔مگر انہوں نے کہا کہ میرا آنا جانا بھی نیکی ہے۔اس لیے اس سے محروم نہیں ہونا چاہتا۔اپنے خالق و مالک خدا کی عبادت اور بالخصوص نماز باجماعت ادا کرنے کی اسلامی تعلیم کے مطابق جس قدر اہمیت ہے وہ کسی تشریح کی محتاج نہیں لیکن افسوس ہے کہ ہمارے زمانہ میں بالخصوص نوجوان اور آسودہ حال طبقہ اس میں بے حد غفلت کا مرتکب پایا جا تا اور آرام طلبی اور فضول مجالس و مشاغل کے باعث عبادت الہی اور نماز کی پابندی میں بہت ست ہورہا ہے۔اور مسلمانوں کے تنزل کا سب سے اہم سبب یہی کوتا ہی ہے۔صحابہ کرام کے مندرجہ بالا واقعات نے آپ پر ثابت کر دیا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے براہ راست تعلیم حاصل کرنے اور حضور کے فیض صحبت سے بلا واسطہ استفادہ کرنے والوں کے نزدیک یہ چیز کس قدر ضروری اور اہم تھی۔ان واقعات میں ایک اور چیز جو آپ کو نمایاں نظر آئے گی وہ یہ ہے کہ عبادت کے معاملہ میں امیر طبقہ بھی ایسا ہی مستعد ہے جیسا غریب تندرست و معذور چھوٹے اور بڑے مرد وعورت سب یکساں طور پر اس کے حریص تھے۔اور اس راہ میں انتہائی مشکلات کی برداشت بخوشی کرتے تھے۔ان واقعات سے ہمارے نوجوانوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔کیونکہ صحابہ کرام کا نوجوان طبقہ اس کا جس قدر مشتاق تھا۔اس زمانہ کے مسلمان نوجوان اسی قدرست نظر آتے ہیں۔بے شک جوانی کا زمانہ امنگوں اور آرزوؤں کا زمانہ ہے۔دلچسپیوں اور مسرتوں کا زمانہ ہے لیکن اس میں بھی کلام نہیں کہ اس عمر کی عبادت بھی خاص درجہ رکھتی ہے۔ان واقعات میں وہ مثالیں بالخصوص اس زمانہ کے لحاظ سے اہم ہیں کہ بعض صحابہ نے اپنے قیمتی باغ اور نخلستان محض اس لیے راہ خدا میں صدقہ کر دیئے اور ان کو اپنے قبضہ میں رکھنا پسند نہ کیا مسلم نوجوانوں کے (132) کہ ان کی وجہ سے نماز میں ان کے استغراق اور محویت میں فرق آیا تھا۔نیز نماز کے وقت صحابہ کا تمام کاروبار اور بازار بند کر کے مسجد میں جا پہنچنا بھی ایک قابل تقلید نمونہ ہے۔افسوس ہے کہ آج لوگ نماز اور عبادت کی خاطر اپنا معمولی سے معمولی نقصان بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔دکاندار نماز با جماعت سے اکثر محروم رہتے ہیں۔محض اس وجہ سے کہ دکان سے اٹھ کر جانے سے بکری میں کچھ کمی آجانے کا احتمال ہے۔ان دونوں ذہنیتوں کو اگر بالمقابل رکھ کر دیکھا جائے تو صحابہ کرام کی ترقیات اور اس زمانہ کے مسلمانوں کی پستی کی وجوہ بہت اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہیں۔جماعت احمدیہ صحابہ کرام کی مثیل ہے۔اور اس میں شک نہیں کہ وہ بہت حد تک عبادت و نماز کی پابندی میں اپنے بزرگوں کے اسوہ کو پیش نظر رکھتی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ابھی اس میں بھی کئی افراد ایسے ہیں جو اپنی حالت میں بہت بڑی اصلاح کے محتاج ہیں۔اور نو جوانوں میں بالخصوص اس پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اور مختصر تو یہ ہے کہ جو شخص نماز سے بھی غافل ہے اور اس کو اس کے تمام شرائط کے ساتھ ادا کرنے میں بلا وجہ کوتاہی کرتا ہے وہ کس منہ سے ان بزرگوں سے مماثلت کا دعوی کر سکتا ہے۔ا۔( بخاری کتاب الصلوۃ) ۳۔(اسوہ صحابہ ج 2) ؟ ۵- ( تاریخ طبری ص 2291) حوالہ جات۔(مسند احمد ج 4 ص 43) ۴۔(ابوداؤد کتاب الصلوۃ) ۶۔(مسند احمد ج 5 ص 30) ے۔(فتح الباری ج 4 ص 253) ۸- ( نسائی کتاب الامامة ) ۹۔(ابن ماجہ کتاب الصلوۃ) ۱۱۔( بخاری کتاب الصلوۃ) ۱۴۔(موطا كتاب الصلوۃ) ۱۰۔(ابوداؤ د کتاب الصلوۃ) ۱۲۔( ابوداؤ د کتاب الصلوۃ) ۱۵۔( بخاری کتاب الصلوۃ) ۱۲۔( ابوداؤد کتاب الصلوۃ) ۷۔(ابوداؤ د کتاب الصلوۃ) www۔alislam۔org