مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 65
130 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 129 مسلم نوجوانوں کے نامے چلتے چلتے اشاروں میں ہی نماز ادا کر لی۔11 - باجماعت نماز کے لیے صحابہ سخت سے سے سخت تکلیف بھی بخوشی برداشت کرتے تھے۔ایک رات آنحضرت ﷺ کو کوئی نہایت ضروری کام پیش آگیا۔صحابہ کرام عشاء کی نماز باجماعت ادا کرنے کے انتظار میں صبر کے ساتھ مسجد میں بیٹھے رہے۔کئی بیٹھے بیٹھے سو گئے پھر جاگے، پھر سوئے اور پھر آنحضرت ﷺ کے تشریف لانے پر اٹھے۔حضرت انس فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام نماز عشاء کے لیے اس قد لمبا انتظار کرتے تھے کہ نیند کے مارے ان کی گردنیں جھک جاتی تھیں۔12۔حضرت ابو سعید خضدری سے روایت ہے کہ صحابہ بعض اوقات نصف شب تک نماز عشاء کے لیے آنحضرت اللہ کا انتظار کرتے تھے۔13 - باجماعت اور بر وقت نماز ادا کرنے کے لیے صحابہ نہایت ہی خضوع اور خشوع کے ساتھ حاضر ہوتے۔اپنے خالق حقیقی کے حضور جبین نیاز خم کرنے میں ان کو جو مزا آتا تھا اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مرتبہ نو جوان ایک پہاڑی درہ پر مامور تھے۔جن میں سے ایک تو سو گئے اور دوسرے نے نماز شروع کر دی۔اتنے میں ایک مشرک کا اس طرف سے گزر ہوا تو اس نے نماز پڑھنے والے مجاہد پر تین تیر چلائے۔جو تینوں ہی ان کے جسم میں پیوست ہو گئے لیکن نماز میں محویت کا یہ عالم تھا کہ اف تک نہ کی۔اور برا بر نماز پڑھتے رہے۔آپ کے رفیق نے بیدار ہونے پر جب آپ کے جسم پر خون کے نشانات اور زخم دیکھے اور اس کی وجہ معلوم کی تو کہا تم نے مجھے پہلے کیوں نہ جگایا۔کہنے لگے میں ایک سورت نماز میں پڑھ رہا تھا اور میں نے اس بات کو پسند نہ کیا کہ اسے نا تمام چھوڑ دوں۔14 - جیسا کہ مذکورہ واقعات سے ظاہر ہو چکا ہے نماز صحابہ کے لیے بہت قیمتی چیز تھی اور اس کی راہ میں حائل ہونے والی کسی چیز کو وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔حضرت ابوطلحہ انصاری ایک مرتبہ اپنے باغ میں مصروف نماز تھے کہ ایک چڑیا پر نظر پڑی۔اس کی رنگت اس قدر خوشکن تھی کہ دیر تک اسے دیکھتے رہے۔نماز سے توجہ ہٹ گئی اور یہ بھی بھول گئے کہ کتنی رکعت باقی ہیں اور کتنی پڑھ چکے ہیں۔اس سے آپ کو اس قدر قلبی اذیت پہنچی کہ آپ نے فیصلہ کر لیا کہ یہ باغ چونکہ میرے لیے فتنہ روحانی کا موجب ہوا ہے اس لیے اسے صدقہ کر دوں گا۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے سارا واقعہ بیان کیا اور باغ صدقہ کر دیا۔اسی طرح ایک اور صحابی نے جو نماز پڑھتے ہوئے کھجور کی فصل کو دیکھتے ہوئے بھول گئے کہ کتنی رکعت ادا کر چکے ہیں۔اپنا باغ محض اس وجہ سے کہ وہ ان کی نماز میں غفلت کا موجب ہوا اسے صدقہ کر دیا۔باغ س قدر قیمتی تھا کہ حضرت عثمان نے اسے پچاس ہزار درہم میں فروخت کیا۔15 - حضرت انس کے متعلق آتا ہے کہ آپ قیام و سجدہ کو اس قد لمبا کرتے تھے کہ لوگ سمجھتے بھول گئے ہیں۔یہ ان کی اکیلی نماز کے متعلق ذکر ہے۔ورنہ جب کسی نماز میں انسان امام ہو تو اس وقت شریعت کا حکم ہے ملکی نماز پڑھائے تاکہ بیمار اور دوسرے لوگ اکتا نہ جائیں۔16۔عرب میں جب شدت کی گرمی پڑتی ہے وہ ظاہر ہے۔نماز ظہر اس وقت ادا کی جاتی تھی جب سورج کی تمازت پورے جوبن پر ہوتی۔اسلام کا ابتدائی زمانہ تھا اور مسلمانوں کی غربت کا یہ عالم تھا کہ مسجد پر چھت تک نہ تھی۔پتھریلی زمین توے کی طرح تپ جاتی تھی۔صحابہ کرام اسی زمین پر نماز پڑھنے کے لیے بڑے شوق کے ساتھ جمع ہوتے تھے۔کنکریاں اٹھا کر ان پر پھونکیں مار مار کر پہلے ان کو ٹھنڈا کرتے اور پھر سجدہ کی جگہ پر رکھ لیتے اور ان پر سجدہ کرتے تھے۔حضرت زید بن ثابت سے روایت ہے کہ نماز ظہر سے زیادہ کوئی نماز ہم پر مشکل نہ تھی لیکن پھر بھی اس میں غفلت نہ ہوتی تھی۔جو نو جوان آج کل مسقف اور فرش سے آراستہ برقی پنکھوں کے نیچے بھی مساجد میں آکر نماز ظہر ادا کرنے میں تامل کرتے ہیں وہ اگر صحابہ کرام کے اس شوق پر نظر کریں تو شرم سے ان کی www۔alislam۔org