مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 62
مسلم نوجوانوں کے نامے 123 سامنے اس طرح جھکا یا کہ پوری طرح تلاقی مافات کر دی۔ارباب سیر تسلیم کرتے ہیں کہ آپ عبادت میں بڑی مشقت اٹھاتے تھے۔قرآن کریم کے ساتھ والہانہ عشق تھا۔اسے چہرہ پر رکھ کر فرماتے کتاب ربی۔کتاب ربی اور یہ کہتے ہوئے ساتھ ساتھ روتے جاتے تھے۔۔حضرت ابوطلحہ کے متعلق بیان کیا جاچکا ہے کہ آپ نے بالکل نوعمری میں اسلام قبول کیا تھا۔لیکن عبادت کے ذریعہ تقویٰ میں وہ بلند مقام حاصل کر لیا تھا کہ بڑے بڑے صحابہ ان سے دعائیں کراتے تھے۔عبادت اس کثرت سے کرتے تھے کہ سجاد لقب پڑ گیا تھا۔6- اسلام لانے سے قبل حضرت ابوسفیان مخالفت میں جس قدر بڑھے ہوئے تھے اس کے ذکر کی ضرورت نہیں۔مگر مسلمان ہونے کے بعد اسلامی تعلیم کا ایک زندہ نمونہ بن گئے تھے۔رات اور دن کا اکثر حصہ عبادت الہی میں گزارتے تھے۔اور اسی وجہ سے آنحضرت ﷺ نے آپ کو جوانانِ جنت کا لقب دیا تھا۔۔حضرت شداد بن اوس کمسنی میں اسلام لائے تھے۔مگر نہایت عابد وزاہد تھے۔رات کو دیر دیر تک مصروف عبادت رہتے۔بسا اوقات ایسا ہوتا کہ لیٹتے تو پھر خیال آتا کہ میں نے خدا تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا نہیں کیا۔اور اس وجہ سے فوراً اٹھ بیٹھتے اور عبادت میں مصروف ہو جاتے تھے۔حتی کہ بعض اوقات رات رات بھر نماز پڑھتے اور عبادت میں مصروف رہتے۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی بیوی کا بیان ہے کہ جب آپ گھر سے نکلتے تو دورکعت نفل پڑھ کر نکلتے تھے۔اور واپس آتے تو بھی اسی طرح کرتے۔یعنی فوراً دو نفل ادا کرتے۔۔حضرت حذیفہ بن الیمان بھی نوجوان تھے۔مگر عبادت گزاری کا یہ حال تھا کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ رات بھر نماز پڑھتے رہے اور عبادت میں برابر شامل رہے۔10 - حضرت عتاب بن اسیہ بالکل نوعمر صحابی تھے۔حتی کہ وفات کے وقت آپ کی عمر صرف مسلم نوجوانوں کے (124) 25-26 سال کی تھی۔لیکن زہد و تقاء کی وجہ سے فضلائے صحابہ میں ان کا شمار ہوتا تھا۔اور اپنی عبادت گزاری کے باعث اتنا بلند مقام حاصل کر چکے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے انہیں ملکہ کا عامل مقرر فرمایا۔اور ان کا تقرر کرتے وقت فرمایا کہ اگر مجھے ان سے زیادہ موزوں آدمی نظر آتا تو اسے اس عہدے پر مقر کرتا۔2008 میں آپ پہلے امیر المج مقرر ہوئے۔11۔حضرت عبدالرحمن بن عوف با وجود یہ کہ بہت دولت مند تھے مگر خشیت اللہ اور تقویٰ سے قلب معمور تھا۔اور دنیوی نعماء ان کے لیے کسی ابتلاء کے بجائے ازدیاد ایمان کا موجب ہوتی تھیں۔اللہ تعالیٰ کی ہیبت اور اس کے جلال کو یاد کر کے اکثر رویا کرتے تھے۔ایک دفعہ تمام دن روزہ سے رہے۔شام کے وقت کھانا آیا تو اسے دیکھ کر رو پڑے اور فرمایا۔مصعب بن عمیر مجھ سے بہتر تھے مگر وہ شہید ہوئے تو کفن میں صرف ایک چادر تھی۔جس سے سر چھپاتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے تھے اور پاؤں چھپاتے تو سرنگا ہو جاتا۔اسی طرح حضرت حمزہ شہید ہوئے تو یہی حالت تھی۔مگر اب دنیا ہمارے لیے فراخ ہوگئی ہے اور اس کی نعمتیں ہمیں بکثرت حاصل ہوگئی ہیں۔اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ہماری نیکیوں کا صلہ ہمیں یہیں نہ مل جائے اور اس قدر رقت طاری ہوئی کہ کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا۔آپ نمازیں نہایت خشوع سے ادا فرماتے تھے۔خصوصاً ظہر کے فرض ادا کرنے سے قبل بہت دیر تک نوافل میں مشغول رہتے تھے۔12 - صحابہ کرام ہمیشہ تقویٰ کی باریک راہوں پر گامزنی کی کوشش کرتے تھے۔اور اس بات کی نہایت احتیاط کرتے تھے کہ ان کا کوئی قدم غلط نہ اٹھ سکے۔اسکی ایک دلچسپ مثال سنئے۔ایک سفر میں چند صحابہ کو ایک گاؤں میں قیام کا اتفاق ہوا۔وہاں کے رئیس کو سانپ نے ڈس لیا تھا اہلِ قریہ نے صحابہ کی شکل وصورت سے مذہبیت کا اندازہ کر کے ان سے درخواست کی کہ مریض کے لیے کوئی چارہ کریں۔صحابہ نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر پھونک دیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ تندرست ہو گیا۔اس کے عوض ان لوگوں نے صحابہ کو کوئی ہدیہ دیا۔جب اس www۔alislam۔org