مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 56
112 مسلم نوجوانوں کے سند کارنامے (111) مسلم نوجوانوں کے نامے اس کی طرف سے یہ جواب سن کر وہ اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے لیے قوت لایموت مہیا کرنے کے لیے سارا سارا دن پتھر پر پھاوڑہ چلاتا ہے۔حضور ﷺ کا اس کے ہاتھوں کو چوم لینا ظاہر کرتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ اپنے ہاتھ سے جو کام بھی ملے کر لینا کوئی کسر شان نہیں بلکہ ہمارے پیارے ن کے نزدیک بہت بڑا درجہ رکھتا ہے۔مهمان نوازی مہمان نوازی انسانی اخلاق میں سے ایک بہترین خلق ہے۔اور اسلام نے اس پر خاص زور دیا ہے۔حتی کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مہمان کا گھر میں آنا اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نشان ہے۔یہی وجہ ہے کہ مہمان نوازی صحابہ کرام کی زندگی کا ایک خاص جز و تھا۔گو ان میں سے اکثر لوگ غریب اور ظاہری اسباب کے لحاظ سے بالکل نادار تھے لیکن ان کی غربت اور افلاس انہیں مہمان نوازی کے ثواب سے محروم نہیں رکھ سکتا تھا۔تاریخ اسلام میں اس کی بے شمار مثالوں میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔1- ایک مرتبہ ایک مہمان دربار نبوی میں آیا۔چونکہ اس وقت کے لحاظ سے ایک شخص کی مہمان نوازی بھی آسان نہ تھی۔اس لیے آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو تحریک فرمائی اور فرمایا کہ جو شخص اس کی مہمان نوازی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے گا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحم کی امید پر اپنے گھر میں موجود سامان خورد و نوش کا جائزہ لیے بغیر حضرت ابوطلحہ نے عرض کیا یارسول اللہ میں اس مہمان کو اپنے ساتھ گھر لے جاتا ہوں۔چنانچہ اسے ساتھ لے گئے۔گھر پہنچے تو بیوی سے معلوم ہوا کہ کھانے کو کچھ نہیں۔صرف اتنا ہی کھانا ہے جو بچوں کے لیے بمشکل کفالت کر سکے گا۔لیکن بیوی کی طرف سے مایوس کن اطلاع کے باوجود انہیں کوئی تشویش نہ ہوئی۔اور جذبہ مہمان نوازی میں کوئی فرق نہ آیا۔آپ نے بیوی سے کہا کہ زیادہ فکر تو بچوں کا ہی ہے لیکن ان کو پیار دلا سادے کر بھوکا ہی سلا دو۔لیکن ایک مشکل ابھی بھی باقی تھی اور وہ یہ کہ اس وقت کے رسم ورواج کے مطابق مہمان گھر والوں کو ساتھ شریک کرنے پر اصرار کر دیگا۔کیونکہ اس وقت تک پردہ کے احکام ابھی نازل نہیں ہوئے تھے۔اور اسکا حل یہ سوچا گیا کہ جب میاں بیوی مہمان کے ساتھ کھانے پر بیٹھیں تو بیوی روشنی ٹھیک کرنے کے بہانہ سے چراغ گل کر دے اور پھر دونوں ساتھ بیٹھ کر یونہی منہ مارتے www۔alislam۔org