مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 55 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 55

110 مسلم نوجوانوں کے سند کارنامے 109 مسلم نوجوانوں کے نامے گھوڑا ان کی کل کائنات تھی۔حضرت اسماء اونٹ اور گھوڑے کی نگہداشت خود کرتی تھیں۔اور اس کے علاوہ گھر کا باقی کام کاج بھی۔آنحضرت ﷺ نے حضرت زبیر کو ایک زمین دی تو یہ خود وہاں جا کر کھجوروں کی گٹھلیاں اکٹھی کرتیں۔اور تین فرلانگ سے اپنے سر پر اٹھا کر لاتی تھیں۔30۔حضرت زینب بنت ابو معاویہ کی شادی حضرت عبداللہ بن مسعود سے ہوئی تھی۔ان کے شوہر غریب تھے۔اور یہ دستکاری جانتی تھیں۔اس لیے اپنے ہاتھ سے محنت کر کے گھر کا خرچ چلاتی تھیں۔ا۔( بخاری کتاب المناقب) ۳۔( بخاری کتاب المغازی) (مسند احمد ج 5 ص 337) ے۔(تذکرة الحفاظ ج1 ص23) ۹۔(اسد الغابہ ج2 ص286) ا۔(ابوداؤد کتاب الطہارت) ۱۳ ( ابن سعد ج 3 ص 164) ۱۵۔( بخاری کتاب الحرث) حوالہ جات ۲۔(سیر انصارج1 ص184) ۴۔(سیرت خاتم النبین ص369) ۶۔(اصابہ ج 5 ص 449)۔(اسد الغابہ ج 2 ص 232 235t) ۱۰۔(ابوداؤد کتاب الخراج) ۱۲۔(ابن ماجہ ابواب الرہون) ۱۴۔( بخاری کتاب البیوع) ۱۶۔( بخاری کتاب البیوع) ۱۷۔(اسد الغابہ ج 6 ص 160) ؟ ۱۔(اسد الغابہ ج 2 ص 203) ۱۹۔( ابن سعد ج 1 ص 132) ۲۱۔(کنز العمال ج12 ص629) ۲۰۔(ابن سعد ج 1 ص 13) ۲۲ - ( تاریخ طبری ص 2966) ۲۳۔( بخاری کتاب المناقب) ؟ ۲۴۔( تاریخ طبری ص 3348) ۲۶۔(حلیۃ الاولیاء زیر لفظ علی بن ابی طالب) ۲۵۔(بخاری کتاب المناقب) ۲۷۔(مسند احمد ج 6 ص 322) ۲۹۔( بخاری کتاب النکاح) ۲۸۔( بخاری کتاب المغازی) ۳۰۔(اسد الغابہ ج 6 ص 128) ایک گزارش صحابہ کرام کی زندگی کا یہ پہلو ہمارے زمانہ کے لیے بہت درجہ سبق آموز ہے۔آج مغربی تہذیب و تمدن نے نوجوانوں کے اندر ایسی خطرناک ذہنیت پیدا کر دی ہے اور خودداری اور سیلف رسپکٹ کا ایسا غلط مفہوم ان کے سامنے پیش کر دیا ہے کہ وہ بعض کا موں کو کرنا کسر شان سمجھتے ہیں۔اور اس مفروضہ عزت نفسی کے خیال سے بریکاری کے مرض میں نہایت بری طرح مبتلا رہتے اور نہایت حسرت کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔اپنے والدین اور متعلقین کے لیے ایک بار بنے رہتے ہیں۔لیکن جب تک خود ساختہ معیار کے مطابق کام نہ ملے بے کا رہی رہنا پسند کرتے ہیں۔جس کا ایک خطرناک نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی تربیت خراب ہو جاتی ہے۔طبعیت میں آوارگی اور بے راہ روی پیدا ہو کر بعض اوقات ان کے چال چلن کو بگاڑ دیتی ہے۔ایسے نوجوان اگر ان واقعات کوغور سے پڑھیں اور سوچیں کہ وہ خواہ کتنے معزز گھرانوں کے چشم و چراغ کیوں نہ ہوں۔سرور کائنات شاہ دو عالم محمد مصطفے اللہ کے خاندان کے افراد سے زیادہ معزز نہیں ہو سکتے۔اور جب یہ حالت ہے کہ حضور ﷺ کا فرزند نسبتی اور قریش کے معزز ترین گھرانے کا معزز اور عالم و فاضل فرزند معمولی گھاس کاٹ کر لانے اور اسے بازار میں فروخت کرنے میں کوئی سبکی محسوس نہیں کرتا۔اور پیغمبر اسلام ﷺ کی ازدواج مطہرات اپنے ہاتھ سے کام کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں۔نہ خاندانی وجاہت ان کے دامن گیر ہوتی ہے اور نہ ہی اس فخر موجودات کے خاندان سے انتساب ان کی محنت و مشقت کے راستہ میں حائل ہوتا ہے۔تو یقیناوہ اپنی روش پر نظر ثانی کے لیے مجبور ہوں گے۔اور اگر یہ واقعات ان کے دل پر اثر انداز ہو کر ان ذہنیتوں میں اصلاح کرسکیں تو مسلمانوں کی قومی اور تمدنی زندگی میں ایک نہایت خوشگوار اور آرام دہ انقلاب پیدا ہوسکتا صلى الله ایک معزز صحابی کے ہاتھوں کی سیاہی کو دیکھ کر آنحضرت ﷺ کا اس کی وجہ دریافت کرنا اور www۔alislam۔org