مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 54
مسلم نوجوانوں کے رنامے 107 شان کے خلاف نہ سمجھتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے رات بھر کسی کے باغ میں پانی دیا اور اس کے عوض کچھ جو حاصل کیے اور پھر صبح جب کھانے کے لیے ان کا حریرہ تیار کرایا تو عین اس وقت کہ جب آپ کھانے کو تیار ہوئے ایک سائل آگیا۔آپ نے وہ اٹھایا اور اس کے حوالے کر دیا۔24- لوگ بعض اوقات آپ سے مسائل وغیرہ پوچھنے کے لیے آتے تو آپکو کبھی گھر میں اپنا جوتا مرمت کرتے کبھی زمین کھودتے ، اور کبھی جنگل میں اونٹ چراتے ہوئے پاتے تھے۔25- آنحضرت ﷺ کو اپنے جگر گوشہ حضرت فاطمہ الزہرا سے جو محبت تھی اور آپ کی آسائش کا جس قدر خیال رہتا تھا وہ احادیث سے ظاہر ہے۔تاہم مقدرت ہونے کے بعد بھی ان کا ہاتھ سے کام کرنا آپ کے لیے باعث تکلیف نہیں ہوا۔چنانچہ ایک دفعہ حضرت فاطمہ الزہرا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ مجھے گھر میں سخت محنت و مشقت کرنی پڑتی ہے حتی کہ چکی پیتے پیتے میرے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے ہیں۔آپ کے پاس غلام آئے ہیں ایک مجھے عنایت کر دیں۔تا کہ اس مشقت میں مددمل سکے۔لیکن سردار دو عالم اور شہنشاہ کونین نے اپنی اکلوتی اور محبوب بیٹی کی یہ بات سن کر جو کچھ فرمایا وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ہم لوگ نہایت تنگ دستی کی حالت میں بھی یہ پسند نہیں کرتے کہ اولاد کو معمولی مشقت کا کام بھی کرنا پڑے۔مگر آپ کو معلوم ہے حضور نے حضرت فاطمہ کو کیا جواب دیا۔آپ نے فرمایا کیا میں تم کو دوں اور اہل صفہ کی آسائش کا انتظام نہ کروں۔یہ نہیں ہو سکتا۔چنانچہ وہ خالی واپس آگئیں۔اس کے بعد آنحضرت ما ان کے مکان پر تشریف لائے اور فرمایا کیا تم کو میں ایسی بات بتاؤں جو اس چیز سے بہتر ہے جو تم نے مانگی ہے۔انہوں نے کہا فرمائیے۔آپ نے فرمایا کہ ہر نماز کے بعد 33-33 بار تسبیح و تحمید اور 34 بار تکبیر کہہ لیا کرو۔26۔حضرت علی کے بلند پایہ اور عالی مقام کو ایک طرف رکھئیے اور دوسری طرف اس واقعہ کو صلى الله مسلم نوجوانوں کے 108 پڑھیے جو آپ خود یوں فرماتے ہیں۔کہ ایک دفعہ میں گھر سے مزدوری کے لیے نکلا۔ایک عورت نے مٹی جمع کر رکھی تھی جسے بھگونا چاہتی تھی۔میں نے اس کے ساتھ فی ڈول ایک کھجور مقرر کی اور سولہ ڈول بھرے جس سے میرے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے اور پھر سولہ کھجوریں لے کر میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور آپ کے ساتھ بیٹھ کر وہ کھجوریں کھائیں۔27- ہاتھ سے کام کرنا صرف صحابہ تک ہی محدود نہ تھا بلکہ خودسرور کا ئنات شاہ کونین سرور عالم آنحضرت ﷺ کو بھی اپنے ہاتھ سے کام کرنے میں عار نہ تھی۔احادیث میں اکثر ایسی روایات ملتی ہیں کہ آپ جب گھر میں تشریف لاتے تو گھر کے کام کاج میں امہات المومنین کا ہاتھ بٹاتے تھے۔بکریوں کا دودھ دوہ لیتے تھے اور یہاں تک کہ اپنے ہاتھ سے اپنا جوتا مرمت کر لیتے تھے۔پھر قومی کاموں میں بھی آپ صحابہ کے ساتھ کام کرتے تھے۔چنانچہ حضرت ام سلمہ کی روایت ہے کہ غزوہ خندق کے موقعہ پر مجھے خوب یاد ہے کہ آپ کا سینہ مبارک گرد و غبار سے اٹا ہوا تھا اور آپ خود دست مبارک سے اینٹیں اور پتھر اٹھا اٹھا کر صحابہ کرام کو دیتے تھے۔اور ساتھ اشعار پڑھتے جاتے تھے کہ دفعتاً آپ کی نظر عمار بن یاسر پر پڑی۔اور آپ نے فرمایا اے ابن سمیہ تجھ کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ان واقعات سے ظاہر ہے کہ صحابہ کرام کو ہاتھ سے کام کرنے کی عادت حالات کے تقاضہ کے ماتحت نہ تھی۔بلکہ ان بزرگوں نے اپنے رہبر اور ہادی سے یہی ہدایت پائی تھی اور اسی کی وجہ سے وہ ایسا کرتے تھے۔اس میں کسی امیر وغریب یا چھوٹے بڑے کا کوئی امتیاز نہ تھا کہ خیال کیا جائے کہ وہ حالات کی مجبوری سے ایسا کرتے تھے۔29۔حضرت اسماء حضرت ابوبکر کی صاحبزادی تھیں۔جو عرب کے متمول لوگوں میں سے تھے۔لیکن با ایں ہمہ وہ اپنے ہاتھ سے معمولی سے معمولی کام کرتی تھیں۔ان کا نکاح حضرت زبیر کے ساتھ ایسی حالت میں ہوا کہ حضرت زبیر بالکل غریب تھے۔ایک اونٹ اور ایک www۔alislam۔org