مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 5 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 5

10 کی ضرورت نہ رہی تھی اس لیے فوراً حضرت قیس کے پاس پہنچے۔کہ اپنا روپیہ واپس لے لیں۔مجھے اب ضرورت نہیں رہی مگر انہوں نے فرمایا ہم کوئی چیز دے کر اسے واپس نہیں لیا مسلم نوجوانوں کے نامے 9 مسلم نوجوانوں کے کارنامه صاحبزادہ حضرت زبیر کو دو چادریں دیں کہ ان سے حضرت حمزہ کے کفن کا کام لیا جائے۔جب ان کو کفن پہنایا جار ہا تھا تو حضرت زبیر نے دیکھا کہ حضرت حمزہ کے پہلو میں ایک انصاری کی لاش پڑی ہے جس کے لیے کفن میسر نہیں۔آپ نے اس بات کو گوارا نہ کیا کہ اپنے ماموں کو تو دو چادریں پہنا دیں اور دوسرا بھائی پاس بے کفن پڑا رہے۔چنانچہ آپ نے ایک چادر ان کے لیے دے دی لیکن ایک چادر حضرت حمزہ کے لیے کافی نہ تھی۔سر چھپایا جاتا تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور پاؤں چھپاتے تو سرنگا ہو جاتا۔آنحضرت ﷺ نے کرتے۔دیکھا تو فرمایا کہ چادر سے چہرہ ڈھانک دو اور پاؤں پر گھاس اور پتے ڈال دو۔اللہ اللہ! کیسے لوگ تھے کہ فرط غم کی حالت میں بھی جبکہ انسان اپنے ہوش و حواس کھو دیتا ہے انہیں اپنے بھائیوں کا اس قدر خیال رہتا تھا کہ مردوں میں بھی امتیاز گوارا نہ کرتے اور ان کی ضروریات سے آنکھیں بند نہ کر سکتے تھے۔-6- حضرت قیس بن عبادہ کے لوگ کثرت سے مقروض تھے۔ایک دفعہ آپ بیمار ہوئے تو مقروض عیادت کے لیے آتے ہوئے شرماتے تھے۔آپ کو علم ہوا تو اعلانِ عام کرا دیا کہ میں نے سب قرضے معاف کئے۔اس پر لوگ اس کثرت سے آنے لگے کہ بالاخانہ کا زینہ جس میں آپ صاحب فراش تھے ٹوٹ گیا۔7- حضرت کثیر بن صلت امیر معاویہ کے مقروض تھے۔امیر معاویہؓ نے مردان کو لکھا کہ قرضہ میں ان کا مکان خرید لو۔مردان نے حضرت کثیر کو بلا کر کہا کہ تین روز کے اندر اندر یا تو روپیہ کا انتظام کر دو۔ورنہ مکان دینے کے لیے تیار رہو۔حضرت کثیر مکان دینا نہ چاہتے تھے۔ادھر روپیہ کا کوئی انتظام نہ تھا۔قرض کی رقم میں تمیں ہزار کی کمی تھی۔سوچتے سوچتے حضرت قیس بن عبادہ کا خیال آیا۔تو ان کے پاس جا کر تیں ہزار قرض مانگا، جو انہوں نے فورا دے دیا۔اور وہ روپیہ لے کر مردان کے پاس پہنچے۔معلوم نہیں کس وجہ سے اسے ایسا خیال آیا کہ اس نے روپیہ بھی لوٹا دیا اور مکان بھی لینے کا ارادہ ترک کر دیا۔اب چونکہ روپیہ 8- حضرت طلحہ جو نوجوان صحابہ میں سے تھے۔بنو تمیم کے محتاجوں اور تنگدستوں کی کفالت کیا کرتے تھے۔مقروضوں کا قرض ادا کر دیتے تھے۔ایک شخص صبیحہ تیمی پر تمہیں ہزار درہم قرض تھا۔حضرت طلحہ نے سب کا سب اپنے پاس سے ادا کر دیا۔و صحابہ کرام میں لالچ نام کو نہ تھا۔اور ہمیشہ دوسرے بھائیوں کا خیال رکھتے تھے۔ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر کو عطیہ دینا چاہا تو انہوں نے عرض کیا۔یا رسول اللہ مجھے اس وقت ضرورت نہیں اس لیے آپ اسے دیں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو۔10 - صحابہ کرام کی زندگیاں مجسم ایثار تھیں اور وہ ہر موقعہ پر اپنے بھائیوں کے لیے قربانی کرنے کے واسطے آمادہ رہتے تھے۔لیکن ان کے ایثار کے سب واقعات کو اگر نظر انداز بھی کر دیا جائے تو صرف ایک واقعہ ہی ایسا ہے جس کی نظیر تاریخ عالم پیش کرنے سے قاصر ہے۔مسلمان جب ہجرت کر کے مدینہ میں آئے تو اکثر ان میں سے بالکل غریب اور نادار تھے۔نہ کھانے کو کچھ پاس تھا نہ پہننے کو اور نہ سر چھپانے کو کوئی جگہ تھی۔لیکن انصار مدینہ نے اس اخلاص اور ایثار کے ساتھ ان سے سلوک کیا کہ انہیں محسوس تک نہ ہونے دیا کہ وہ کسی غیر جگہ میں ہیں۔اپنے مکانات ان کی رہائش کے لیے خالی کر دیئے اور انہیں اپنے اموال میں حصہ دار بنالیا۔اپنی زمینیں اور باغات ان کے ساتھ تقسیم کر دیئے اور یہاں تک ان کے لیے ایثار کرنے کو تیار ہو گئے کہ حضرت سعد بن الربیع نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کو، جن کے ساتھ ان کی مواخات قائم ہوئی تھی ، کہ دیا کہ میری دو بیویاں ہیں۔جن میں سے ایک کو میں طلاق دے دیتا ہوں تا کہ آپ اس کے ساتھ نکاح کر سکیں۔اگر چہ حضرت عبدالرحمن نے اس تجویز کو بوجہ اس کے ناجائز ہونے کے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔اور نہ ہی حضرت سعد بن الربیع اسے جائز سمجھتے تھے۔تاہم www۔alislam۔org