مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 48
96 مسلم نوجوانوں کے کارنامـ 95 مسلم نوجوانوں کے نامے وجہ سے صحت پر بہت برا اثر پڑا۔کان بہرے ہو گئے اور بینائی میں بھی فرق آگیا۔کئی بار بے ہوش ہو ہو کر گرتے۔مگر جان کی انہیں کوئی پرواہ نہیں تھی صرف یہ خیال تھا کہ کسی طرح گناہ کی تلافی ہو جائے۔آخر اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ قبول فرمائی۔آنحضرت ﷺ نے اس کا اعلان کیا تو صحابہ کھولنے آئے مگر آپ نے فرمایا آنحضرت ﷺ جب تک خود نہ کھولیں گے میں بدستور بندھا رہوں گا۔خواہ جان کیوں نہ چلی جائے۔آخر آنحضرت می خود تشریف لائے اور اپنے دست مبارک سے ان کو آزاد کیا۔اس پر اس قدر خوش ہوئے کہ کہا اب تمام گھر بار چھوڑ کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر رہوں گا اور کل مال صدقہ کرتا ہوں۔مگر آنحضرت ﷺ نے صرف ایک ثلث کی اجازت دی۔راز داری کے احساس کے علاوہ اس واقعہ میں ان لوگوں کے لیے بھی ایک سبق ہے جو نہ صرف خود کسی جرم کا ارتکاب کرنے کے بعد اس کی سزا سے محفوظ رہنے کے لیے طرح طرح کے بہانے کرتے اور اپنی غلطی کو تاویلات کے ذریعہ درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ دوسرں کے جرائم پر بھی پردہ ڈالنے کی جائز و نا جائز سعی کرتے ہیں۔-4 فتح مکہ کے بعد آنحضرت مہ نے ساٹھ صحابہ کو بنو ملوح کے مقابلہ کے لیے بھیجا۔جن میں ایک نوجوان حضرت غالب بن عبداللہ تھے۔ایک مقام پر پہنچ کر افسر جیش نے ان کو دشمن کی نقل و حرکت اور حالات کی تحقیق کے لیے آگے بھیجا۔یہ ان کی آبادی کے قریب پہنچ کر ایک بلند ٹیلہ پر چڑھ کر منہ کے بل لیٹ گئے۔اور دشمن کی حرکات کا جائزہ لینے لگے۔اتنے میں ایک شخص جس کا مکان ٹیلہ کے قریب تھا گھر سے نکلا۔اس کی بیوی اس کے ساتھ تھی۔اس نے یونہی جو او پر دھیان کیا تو آپ کا سایہ نظر آیا۔اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ ٹیلہ پر مجھے سایہ نظر آتا ہے شاید کوئی آدمی ہے یا ممکن ہے کوئی کتا وغیرہ ہو۔جو ہمارے ہاں سے کوئی کھانے پینے کی چیز یا برتن وغیرہ اٹھا کر او پر جا بیٹھا ہو۔ذرا گھر میں دیکھو تو سہی کہ کتا کوئی چیز یا برتن وغیرہ تو نہیں لے گیا۔بیوی نے سب کچھ دیکھ بھال کر اطمینان دلایا کہ سب چیزیں محفوظ ہیں۔اس پر اسے یقین ہو گیا کہ ضرور کوئی آدمی ہے اور بیوی سے کہہ کر تیر کمان منگوایا۔اور آپ پر دو تیر چلائے۔جن میں سے ایک تو آپ کے پہلو میں لگا اور دوسرا کندھے میں مگر آفرین ہے اس جواں ہمت پر کہ دو تیر لگے اور جسم کے نازک حصوں میں پیوست ہو گئے۔لیکن اس قدر زخم کھانے کے باوجود کوئی حرکت کرنا تو در کنار منہ سے اف تک نہ کی کہ مبادا اسے علم ہو جائے اور اس طرح مسلمانوں کا راز افشا ہو کر انہیں کوئی نقصان پہنچے۔یہ دیکھ کر اس نے خیال کیا کہ محض واہمہ ہے۔ورنہ یہ کس طرح ممکن تھا کہ کوئی آدمی ہوتا تو اس طرح تیر لگنے پر جنبش تک نہ کرتا۔چنانچہ وہ مطمئن ہو کر وہاں سے واپس چلا گیا۔اس کے جانے کے بعد آپ نے تیر کھینچ کر باہر نکالے۔5۔آنحضرت ﷺ نے منافقین کے نام حضرت حذیفہ کو بتا دیئے اور اس وجہ سے ان کا لقب ہی ”سر رسول اللہ پڑ گیا تھا۔چونکہ اس راز کے افشاء کی آنحضرت ﷺ نے آپ کو اجازت نہ دی تھی۔اس لیے آپ نے کبھی ان ناموں کو ظا ہر نہیں کیا۔ایک بار حضرت عمر نے ان سے دریافت کیا کہ میرے عمال میں کوئی منافق ہو تو بتائیے۔کہ میں ان کے ضرر سے اسلام کو بچانے کا انتظام کر سکوں مگر آپ نے جواب دیا کہ ایک ہے تو سہی مگر افسوس ہے کہ میں اس کا نام نہیں بتا سکتا۔کہ اس طرح آنحضرت ﷺ کے راز کے افشا کا مجرم ہوں گا۔آنحضرت ﷺ اور حضرت ابو بکر جب به ارادہ ہجرت مکہ سے نکلے تو حضرت ابوبکر نے اپنے نوجوان فرزند حضرت عبداللہ کو ہدایت کی کہ قریش کی نقل و حرکت کا اچھی طرح خیال رکھیں۔اور روز شام کے بعد غار ثور میں پہنچ کر اطلاع دیا کریں۔چنانچہ آپ اس حکم کی تعمیل نہایت راز داری سے کرتے رہے۔شام کا اندھیرا ہوتے ہی غار ثور میں پہنچ جاتے۔اور رات وہیں ٹھہر کر سفیدی صبح نمودار ہونے سے قبل واپس آ جاتے۔اسی طرح حضرت ابوبکر کے خادم عامر بن فہیرہ کے سپرد یہ کام تھا کہ دن بھر بکریاں چرائیں اور رات کو دودھ وہاں پہنچایا کر یں۔چنانچہ وہ بھی اس کی تعمیل اس احتیاط کے ساتھ کرتے رہے کہ کسی کو کانوں صلى الله www۔alislam۔org