مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 30
60 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 59 مسلم نوجوانوں کے نامے زائد حفاظ تھے۔( بخاری کتاب فضائل القرآن ) 13 - حضرت معاذ بن جبل نے عین عالم شباب یعنی 32 سال کی عمر میں انتقال کیا تھا مگر اس عمر کو عام طو پر نفسانی خواہشات کے غلبہ کی عمر بھی جاتی ہے۔آپ نے جس پاکبازی کے ساتھ بسر کیا اس کا انداز اس امر سے ہو سکتا ہے کہ حضرت عمر جب انتقال فرمانے لگے تو لوگوں نے کہا کہ کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں مگر آپ نے فرمایا کہ کاش معاذ زندہ ہوتے تو ان کو خلیفہ مقرر کر جاتا۔نیز آپ فرمایا کرتے تھے کہ عجزت النساء ان يلدن مثل معاذ يعنى عورتیں معاذ کا ثانی پیدا کرنے سے قاصر ہیں۔(سیر انصار جلد 2 صفحہ 184) اس کے علاوہ آپ مجلس شوری کے رکن تھے۔(کنز العمال 134 ) مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے آپ کو یمن کا امیر مقرر فرمایا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حضور علیہ السلام کے نزدیک آپ کا علمی اور عقلی پایہ بہت بلند تھا۔(مسند جلد 5 صفحہ 235) 14 - حضرت مجمع بن جاریہ نے بچپن میں ہی قرآن کریم حفظ کر لیا تھا جو اگر چہ فی زمانہ کوئی خاص بات نہیں سمجھی جاتی لیکن اس زمانہ کے تمدن کے لحاظ سے بہت بڑی بات تھی (اسدالغابہ جلد 4 صفحہ 203) زہد و تقدس کی وجہ سے اپنی قوم میں امام تھے۔آپ کا باپ ہی مسجد ضرار کا بانی تھا۔مگر آپ نے باوجود کم سنی کے اسلامی تعلیم کی روح کو ایسی عمدہ طرح اخذ کیا ہوا تھا کہ باپ کا قطعا کوئی اثر قبول نہیں کیا۔(سیر انصار جلد 2 صفحہ 204) 15- حضرت نعمان بن منذر کی عمر آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں آٹھ سال کی تھی لیکن حضور علیہ السلام کے حالات کا بغور مطالعہ کرتے رہتے اور انہیں یا در کھتے تھے۔منبر کے بالکل قریب بیٹھ کر وعظ سنتے تھے۔ایک مرتبہ دعوئی سے کہا کہ میں آنحضرت یہ کی رات کی نماز کے متعلق اکثر صحابہ سے زیادہ واقفیت رکھتا ہوں۔(مسند جلد 4 صفحہ 269) 16 - حضرت سمرہ بن جندب عہد نبوت میں بالکل صغير السن تھے۔مگر سینکڑوں حدیثیں یاد تھیں لکھا ہے کہ کان من الحفاظ المكثرين عن رسول الله عل الله یعنی آپ حدیث کے حافظ اور آنحضرت ماہ سے کثیر روایت کرنے والے تھے۔(استیعاب جلد 2 صفحہ 579) 17 - حضرت عمر کے متعلق لکھا ہے کہ مدینہ سے کسی قدر فاصلہ پر اقامت رکھتے تھے مگر تحصیل علم کا اس قدر شوق تھا کہ ایک روز خود آنحضرت ﷺ کے دربار میں حاضر ہوتے اور دوسرے روز اپنے پڑوسی حضرت عتبان بن مالک کو بھیجتے۔تاکہ کسی روز بھی حضور کے ارشادات سننے۔محروم نہ رہیں۔آپ واپس آکر اس روز کی بات پڑوسی کو سناتے اور دوسرے روز ان سے خود سنتے۔( بخاری کتاب العلم) 18- مدینہ سے باہر رہنے والے مسلمان قبائل اپنے میں سے بعض کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بھیج دیا کرتے تھے۔جو دربار رسالت میں کچھ عرصہ حاضر رہ کر تعلیم حاصل کرتے اور پھر واپس جا کر اپنے قبیلہ کو کھاتے تھے۔(تفسیر ابن کثیر صفحہ 88) 19- اصحاب الصفہ نہایت غریب اور نادار لوگ تھے جو گزارہ کے لیے محنت شاقہ پر مجبور تھے۔چنانچہ دن کے وقت جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اور باہر سے شہر میں پانی بھر کر لاتے۔اور اس طرح قوت لایموت کا انتظام کرتے تھے۔اس وجہ سے دن میں تعلیم کا وقت بہت کم ملتا تھا اس لیے رات کو پڑھتے تھے۔(مسند جلد 3 صفحہ 137) ނ 20- حضرت عمرو بن مسلمہ کی عمر آنحضرت میہ کے زمانہ میں سات آٹھ سال کی تھی مگر اپنے قبیلہ میں سب سے زیادہ قرآن دان تھے۔قبیلہ کے لوگوں نے آنحضرت ﷺ دریافت کیا کہ امام الصلوۃ کسے بنائیں۔آپ نے فرمایا جو سب سے زیادہ قرآن دان ہو چنانچہ آپکو امام بنایا گیا۔21۔حضرت سلمان فارسی ابوالدرداء کو لکھتے ہیں کہ علم ایک چشمہ ہے جس پر لوگ پیاس بجھانے کے لیے آتے ہیں۔اور دوسروں کو سیراب کرنے کے لیے اس سے نالیاں نکالتے ہیں لیکن (ابوداؤد كتاب الصلوة ) www۔alislam۔org