مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 28 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 28

مسلم نوجوانوں کے نامے 55۔مال خمس میں سے ایک حصہ اہل بیت کو ملا کرتا تھا جس کا انتظام اور تقسیم وغیرہ حضرت علی کے سپر د تھی۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایک مرتبہ بہت سا مال آیا۔تو آپ نے حسب معمول اہل بیت کا حصہ حضرت علی گودینا چاہا۔مگر انہوں نے کہا کہ اس سال تو ہم اس سے بے نیاز ہیں جو مسلمان مستحق ہیں یہ بھی ان میں تقسیم کر دیں اور حضرت عمر نے وہ حصہ بیت المال میں داخل کر دیا۔آنحضرت ﷺ کے ان صریح ارشادات اور بزرگوں کے اسوہ کے باوجود جب ہم دیکھتے ہیں کہ آج گداگروں اور بھیک منگوں میں سب سے زیادہ تعداد مسلمان کہلانے اور امت محمدیہ میں اپنا شمار کرانے والوں کی ہے تو ہر غیرت مند اور باحیا مسلمان کا سر ندامت سے جھک جاتا ہے۔ا۔(مسند احمد ج 3 ص 380) ۳۔(ابوداؤد کتاب الزکوۃ) ۵۔(اسد الغابہ ج 4 ص 234) ے۔(استیعاب ج 4 ص 123) ۹۔(ابوداؤد کتاب الخراج) حوالہ جات ۲۔(مسند احمد ج 6 ص 373) ۴۔( بخاری کتاب الزکوۃ) ۶۔(مسند احمد ج 6 ص 4)۔(استیعاب ج 3 ص 4) مسلم نوجوانوں کے سند کارنامے شوق تحصیل علم 56 کون نہیں جانتا کہ عرب جاہلیت کا مرکز تھا جس میں تعلیم کا نام ونشان بھی مشکل سے ملتا تھا۔لیکن نور ایمان کے ساتھ مسلمانوں کے اندر حصول علم کا ایک ایسا جذبہ پیدا ہو گیا جس نے نہ صرف یہ کہ ان کی کایا پلٹ دی بلکہ دنیا بھر کے علوم کا ان کو بانی بنادیا۔یہ مضمون اس قدر وسیع ہے کہ اس پر کئی ضخیم جلدیں لکھی جاسکتی ہیں مگر یہ اس کا موقعہ نہیں۔اس لیے صرف بطور نمونہ چند نوجوان صحابہ کی علمی شان کے ذکر پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔1- حضرت ابو ہریرہ کا جو مرتبہ علم حدیث میں ہے اس سے سب دنیا واقف ہے۔مگر شاید اس بات کا علم کم لوگوں کو ہوگا کہ آپ نے عین جوانی میں یعنی تمیں سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔اور اس زمانہ میں جو امنگوں اور آرزوؤں کا زمانہ ہے آنحضرت ﷺ کے دہن مبارک سے بکھرنے والے موتیوں کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے کے جوش میں تمام جذبات کو مار کر ایک بے نوا فقیر کی طرح اپنے آپ کو حضور کے قدموں میں ڈال دیا۔اور سایہ کی طرح ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے۔کئی کئی فاقے گزر جاتے مگر پیٹ پر پتھر باندھ کر اس وجہ سے سجدہ ہی میں پڑے رہتے کہ ایسا نہ ہو کھانے کی فکر میں باہر جائیں اور بعد میں آنحضرت باہر تشریف لا کر کوئی بات ارشاد فرما ئیں اور اس کے سننے سے محروم رہ جائیں۔فاقہ کی وجہ سے کئی بار غش کھا کھا کر گرتے۔اور لوگ خیال کرتے کہ آپ مرض مرع کے مریض ہیں۔حالانکہ یہ حالت صرف بھوک کے باعث ہوتی تھی۔اسی جانفشانی کا نتیجہ ہے کہ آپ سے مرویات کی تعداد 5374 ہے۔(اصابہ جلد 7 صفحہ 205) 2۔آنحضرت ﷺ کی وفات کے وقت حضرت اسامہ بن زید کی عمر صرف بیس سال تھی لیکن یہ بات متفق علیہ ہے کہ آپکا سینہ اقوال النبی ﷺ کا خزینہ تھا۔بڑے بڑے صحابہ کو جس بات www۔alislam۔org