مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 10
20 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 19 مسلم نوجوانوں کے نامے دوسرے رنگ کی قربانیوں کی طرح اس میں بھی نہایت عمدہ نمونہ پیش کیا۔حضرت سعد بن ابی وقاص اپنی والدہ کے بے حد فرماں بردار اور خدمت گزار تھے۔انیس سال کا سن تھا کہ آپ کو قبول اسلام کی سعادت نصیب ہوئی۔ماں کو علم ہوا تو سخت رنج ہوا اور قسم کھائی کہ جب تک سعد نئے دین کو نہ چھوڑیں گے میں نہ کھانا کھاؤں گی نہ پانی پیوں گی اور نہ ان سے بات چیت کروں گی۔چنانچہ اس قسم کو پورا کیا حتی کہ تیسرے دن بے ہوش ہوگئی۔اور نقاہت کی وجہ سے غش پر خش آنے لگے۔اسے اپنے سعادت مند فرزند پر یہ امید تھی کہ اسے مسلسل فاقہ اور تکلیف کی حالت میں دیکھ کر ضرور اس کا کہا مان لے گا۔اسلام سے برگشتہ ہو جائے گا اور ایمان کو اس کی خوشنودی پر قربان کر دے گا۔ایک طرف ماں کی جان جانے کا خیال تھا اور دوسری طرف ایمان کے ضائع ہونے کا۔عام حالات میں دنیا دار لوگ اپنی ماں کو کسی عقیدہ پر قربان کرنے کے لیے بہت کم تیار ہو سکتے ہیں۔لیکن حضرت سعد اسلام کو ماں کی جان سے بہت زیادہ قیمتی سمجھتے تھے۔چنانچہ ماں کی اس سنتیہ آگرہ کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور اس سے صاف کہہ دیا کہ اگر تمہارے قالب میں سو جانیں ہوں اور ہر ایک نکل جائے تو بھی میں اپنے دین کو نہ چھوڑوں گا۔20۔ایسے ابتلاء اور بھی کئی صحابہ کو پیش آئے مگر سب کے سب ثابت قدم رہے۔حضرت خالد بن سعید جب اسلام لائے تو ان کے باپ کو سخت صدمہ ہوا۔بیٹے کو خوب زدوکوب کیا اور ساتھ ہی خود کھانا پینا ترک کر دیا اور کہا کہ جب تک میرا بیٹا اسلام کو ترک نہ کرے گا میں نہ کھانا کھاؤں اور نہ پانی پیوں گا۔گھر میں ان کے بائیکاٹ کا حکم دے دیاحتی کہ سب نے بات چیت تک بند کر دی مگر اس سعید نوجوان پر ان میں سے کسی بات کا بھی کوئی اثر نہ ہوا اور انہوں نے رسول کریم ﷺ کی رفاقت کو ایک لمحہ کے لیے بھی چھوڑ نا گوارا نہ کیا۔اور آخر کار حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے۔اس پر باپ کو اور بھی رنج ہوا اور وہ بھی اپنا مال واسباب کو لے کر طائف کو چلا گیا۔21- حضرت ابو بکر کی عمر آنحضرت ﷺ سے اڑھائی سال کم تھی۔آپ نے چالیس سال کی عمر میں دعوی رسالت کیا۔اور اس لحاظ سے حضرت ابوبکر کا شمار بھی نوجوان صحابہ میں ہوسکتا ہے۔آپ نے دیکھا کہ بہت سے غلام اور لونڈیاں جو اپنے مشرک آقاؤں کے قبضہ میں تھے اسلام قبول کرنے کے باعث طرح طرح کے مظالم کا تختہ مشق بنے ہوئے تھے۔اور ان کے ہاتھوں سخت اذیتیں اٹھا رہے تھے۔حضرت ابو بکر کی محبت نے اپنے بھائیوں کے مصائب پر جوش مارا اور ان کی محبت نے مال و دولت کی محبت انکے دل میں سرد کر دی۔اور انہوں نے کئی ایسے غلام مثلاً حضرت بلال ، حضرت عامر بن فہیرہ ، نذیرہ ، نہد یہ، جاریہ بن نوفل اور بنت تہد یہ وغیرہ کو خرید کر آزاد کر دیا۔کسی دنیوی لالچ کے بغیر اور کسی ظاہری نفع کی امید کے بالکل نہ ہونے کے باوجود ایسے لوگوں کے لیے جن سے نہ کوئی رشتہ تھا اور نہ قرابت حتی کہ ہم قوم بلکہ بعض حالتوں میں ہم وطن ہونے کا بھی تعلق نہ تھا۔اس قدر مالی قربانی کرنا صرف مسلمانوں کا ہی حصہ ہے۔22۔حضرت ابو بکر عرب کے متمول ترین لوگوں میں سے تھے۔اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو قبول اسلام کی توفیق ایسے وقت میں دی جو امنگوں اور آرزوؤں کا زمانہ تھا یعنی عالم جوانی میں، جو عمر عرب کے تمدن کے لحاظ سے داد عیش و نشاط دینے کی عمر بھی جاتی تھی لیکن آپ نے اپنی دولت و ثروت کو دین کے لیے وقف فرما دیا تھا۔قبول اسلام کے وقت آپ کے پاس چالیس ہزار درہم نقد موجود تھے مگر سب راہ دین میں صرف کر دیئے۔آپ نے اس قدر مالی قربانیاں کیں کہ زمانہ خلافت میں آپ پر چھ ہزار درہم قرض تھا۔وفات کے وقت بھی آپ مقروض تھے۔اور وصیت فرمائی تھی کہ میرا باغ بیچ کر قرض ادا کیا جائے اور پھر جو مال بچے وہ حضرت عمر کے سپر د کر دیا جائے۔اس عظیم الشان انسان کی وفات پر جو دنیا میں درہم و دینار سے کھیلتا رہا اور سیم وزرلٹا تا رہا جسے اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے حکومت کا بھی بلند ترین منصب عطا کیا جب اسکے مال و اسباب کا جائزہ لیا گیا تو صرف ایک غلام ایک لونڈی اور دو اونٹیاں نکلیں۔جو حضرت عمرؓ کے سپر د کر دی گئیں۔www۔alislam۔org