مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 81
162 مسلم نوجوانوں کے 161 مسلم نوجوانوں کے سنہ ی کارنامے پابندی عہد صحابہ کرام کی زندگیوں میں پابندی عہد کا وصف بھی دوسری خوبیوں کی طرح بہت ممتاز نظر آتا ہے حتی کہ وہ دشمنوں کے معاملہ میں بھی اس کو نظر انداز نہ ہونے دیتے تھے اور خواہ کس قدر نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑے اپنے عہد سے ہرگز نہ پھرتے تھے۔1 حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب رومیوں سے مجاہدین اسلام نبرد آزما ہوئے تھے اور حمص کو فتح کر چکے تھے کہ کسی فوجی مصلحت کے ماتحت بعد مشورہ یہ طے ہوا کہ تمام مفتوحہ علاقہ کو خالی کر کے دمشق میں تمام قوت کو از سر نو مجتمع کیا جائے۔لیکن جزیہ کی رقم ان علاقوں کے رہنے والوں سے وصول کی جا چکی تھی۔اور اس کے عوض مسلمانوں نے ان کی حفاظت کا وعدہ کیا ہوا تھا۔جب ان علاقوں کو خالی کر دینے کا فیصلہ ہوا تو چونکہ رومیوں کی حفاظت کا ذمہ نہ لیا جاسکتا تھا اس لیے جو کچھ ان سے لیا گیا تھا سب کا سب واپس کر دیا گیا۔اس شریفانہ سلوک کا وہاں کے عیسائیوں اور یہودیوں پر اس قدر اثر ہوا کہ وہ رو رو کر دعائیں کر رہے تھے کہ خدا تعالیٰ مسلمانوں کو جلد واپس لائے۔2- ایک مرتبہ مسلمانوں نے ایک قلعہ کا محاصرہ کر رکھا تھا۔کہ مجاہدین اسلام میں سے ایک غلام نے اہل قلعہ کے ساتھ وعدہ کیا کہ انہیں امان دی جائے گی۔اور چونکہ اس کا کوئی خاص موقعہ نہ ملا تھا اس لیے عام طور پر مسلمانوں نے اس کی وعدہ کی پابندی سے انکار کر دیا۔لیکن محصورین نے کہا کہ ہمیں اس کا کیا علم کہ وعدہ کرنے والا غلام ہے یا آزاد۔ہم سے جو وعدہ ہوا ہے وہ بہر حال پورا ہونا چاہیے۔آخر یہ معاملہ حضرت عمر کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ مسلمان غلام کا وعدہ بھی قوم کا وعدہ ہے۔جس کی پابندی لازمی ہے۔پابندی عہد کا مسلمان اس قدر خیال رکھتے تھے کہ بڑے سے بڑے حاکم کو بھی اس کی خلاف ورزی کی طرف مائل دیکھتے تو فوراً روک دیتے تھے۔ایک دفعہ حضرت امیر معاویہ نے رومیوں کے ساتھ معاہدہ کیا تھا لیکن ابھی اسکی معیاد ختم نہ ہوئی تھی کہ حملہ کی تیاری شروع کر دی۔حضرت عمر بن عفسہ کو جب اسلامی فوج کی تیاریوں کا علم ہوا تو گھوڑے پر سوار ہو کر حضرت معاویہ کے پاس پہنچے اور فرمایا کہ وفا کرنی چاہیے۔بدعہدی مسلمان کے لیے مناسب نہیں۔4 کفار کے ساتھ جو وعدہ ہو تا مسلمان اس کی خلاف ورزی بھی گوارا نہ کرتے تھے۔امیر معاویہ نے حضرت عقبہ بن عامر کو مصر کا گورنر مقرر کیا۔وہ مصر کے ایک گاؤں میں اپنے لیے رہائشی مکان تعمیر کرنا چاہتے تھے۔اور اسکے لیے انہوں نے ایک غیر آبادز مین جو کسی کی ملکیت نہ تھی انتخاب کی۔ان کے ایک ملازم نے کہا کہ آپ کوئی عمدہ قطعہ مکان کے لیے تجویز کریں۔یہ زمین جو آپ لے رہے ہیں کوئی اچھی نہیں لیکن حضرت عقبہ نے جواب دیا کہ یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ذمیوں کے ساتھ جو ہمارا معاہدہ ہے اس کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ ان کی کوئی زمین ان کے قبضہ سے نہیں نکالی جائے گی۔-5 پہلے یہ ذکر آچکا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ستر حفاظ اور قراء کا ایک وفد ایک قبیلہ کی درخواست پر تعلیم دین کے لیے ان کے ساتھ بھیجا تھا۔مگر کفار نے ان پر حملہ کر کے سوائے دو کے سب کو شہید کر دیا۔ان میں سے زندہ بچنے والوں میں سے ایک حضرت عمرو بن امیہ ضمیر تھے۔وہ جب واپس مدینہ آرہے تھے تو رستہ میں قبیلہ بنو عامر کے دو شخص ملے۔حضرت عمرو نے جذبہ انتقام کے ماتحت ان کو قتل کر دیا۔مدینہ میں پہنچ کر جب سب حالات حضور کی خدمت میں عرض کیسے تو ساتھ ہی ان دو اشخاص کے قتل کا بھی ذکر کیا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ دونوں تو ہم سے عہد و پیمان کر گئے تھے۔اس لیے ان کا قتل جائز نہ تھا۔اور اس کی تلافی کے لیے اب ان کا خون بہا ادا کرنا ضروری ہے۔- صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جو معاہدہ مرتب ہوا تھا اس کی رو سے یہ طے پایا تھا کہ اگلے سال مسلمان مکہ میں آکر عمرہ کر سکتے ہیں۔مگر تین روز سے زیادہ مکہ میں ٹھہر نہیں سکتے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ دو ہزار مسلمانوں کے ساتھ تشریف لائے اور ارکان عمرہ سے فارغ ہو کرام www۔alislam۔org