مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 75 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 75

150 مسلم نوجوانوں کے سند کارنامے 149 مسلم نوجوانوں کے نامے نے پھر اسی طرح مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔6- حضرت ابوبکر کا قلب جب نوراسلام سے منور ہوا تو اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی اس نعمت سے فیض یاب کرنے کے لیے ان کے دل میں ایک خاص تڑپ تھی۔آپ اسلام کی تبلیغ ان مشکلات کے باوجود جو قریش کی طرف سے درپیش تھیں برابر کرتے رہتے تھے۔اور اس کے نتیجہ میں بعض ایسے بزرگ داخل اسلام ہوئے جو بعد میں افق اسلام پرستارے بن کر چمکے۔حضرت عثمان، حضرت زبیر بن العوم، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت طلحہ ، حضرت عثمان مطعون، حضرت ابوعبیدہ،حضرت ابوسلمہ، اور حضرت خالد بن سعید بن العاص آپ کی تبلیغ سے ہی دولت اسلام سے مالا مال ہوئے۔-- آنحضرت ﷺ جب عرب کے مختلف قبائل اور عام اجتماعوں میں تبلیغ و ہدایت کا فرض سرانجام دینے کے لیے جاتے تو حضرت ابو بکر آپ کے ساتھ رہتے تھے۔اور چونکہ آپ کا حلقہ تعارف بہت وسیع تھا اس لیے آنحضرت میلہ کا تعارف بھی لوگوں سے کراتے تھے۔حوالہ جات ا۔(اسد الغابہ ج 3 ص 280) ۲ - ( ابن سعدج 8 زکرام شریک) ۳۔(موطا کتاب النکاح) ۴۔(اسد الغابہ ج 6 زکرام سلیم) ۵- ( بخاری کتاب المناقب) ۶- ( بخاری کتاب بنیان الکعبة ) ۷۔(کنز العمال ج 6 ص 319) صبر ورضا اسلام سے قبل مراسم ماتم اہل عرب کے تمدن کا ایک اہم جزو تھا۔جو نہایت اہتمام کے ساتھ ادا کی جاتی تھی۔کسی کی وفات پر اس کے اعزہ اپنا منہ نوچتے ، بال کھوٹتے ، سینہ کوبی کرتے اور سخت جزع فزع سے کام لیتے تھے۔عورتوں کا یہ فرض سمجھا جاتا تھا کہ سر کے بال کھول کر خاک ڈالیں۔روتی پیٹتی جنازہ کے پیچھے پیچھے چلیں حتی کہ بعض عورتیں سر کے بال منڈوا دیتی تھیں۔رونے پیٹنے اور نوحہ کرنے کے لیے اجرت پر عورتیں بلوائی جاتی تھیں۔جو بڑے زور کے ساتھ ماتم کرتیں۔مردہ کی تدفین کے بعد دستر خوان بچھایا جاتا اور تمام نوحہ کرنے والی عورتوں کو کھانا کھلایا جاتا تھا۔اسی طرح مرنے کے بعد تیسرے اور چالیسویں دن نیز ششماہی اور سالانہ تقاریب تھیں اور ان کو نظر انداز کر کے کوئی شخص سوسائٹی میں اپنی عزت کو برقرار نہیں رکھ سکتا تھا۔لیکن رسول کریم ﷺ نے ان تمام لغور سوم کی ممانعت فرما دی۔اور یہ تعلیم دی کہ اللہ تعالی کی طرف سے جو مصیبت پہنچے اسے صبر کے ساتھ برداشت کرنا چاہیے۔قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ مومن وہی ہے جو ہر تکلیف کے وقت انا للہ وانا الیہ راجعون کہہ کر اللہ تعالی کی قضا پر صبر کرتے ہیں۔اور غیر معمولی اور غیر طبعی جزع و فزع سے کام نہیں لیتے۔صحابہ کرام نے اس تعلیم کو اپنی تمام پرانی اور صد ہا سالوں کی عادت کے باوجود حرز جان بنایا۔اور ہمیشہ اس پر سختی کے ساتھ قائم رہے۔جیسا کہ ذیل کی چند ایمان پر ور مثالوں سے واضح ہوتا ہے۔1- حضرت ابوطلحہ صحابی کا ذکر گذشتہ صفحات میں کئی بار آچکا ہے۔آپ جلیل القدر صحابی تھے۔ان کا لڑکا بیمار تھا جسے اسی حالت میں چھوڑ کر وہ صبح اٹھ کر اپنے کام کاج کے لیے باہر چلے گئے۔اور لڑکا بعد میں فوت ہو گیا۔ان کی بیوی نے نہ صرف یہ کہ خود کوئی جزع فزع نہ کیا بلکہ تمام پڑوسیوں اور متعلقین کو روک دیا۔کوئی صف ماتم نہ بچھائی۔صرف انا للہ وانا الیہ راجعون کہہ کر خاموش ہور ہیں۔اور سب سے کہہ دیا کہ حضرت ابوطلحہ آئیں تو وفات کی www۔alislam۔org