مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 76
152 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 151 مسلم نوجوانوں کے نامے اطلاع ان کو نہ دی جائے چنانچہ وہ جب شام کو واپس لوٹے تو دریافت کیا کہ بچہ کیسا ہے۔بیوی نے جواب دیا کہ پہلے سے زیادہ پرسکون ہے۔اس کے بعد خاوند کے لیے کھانا لائیں۔رات نہایت سکون اور آرام کے ساتھ بسر کی۔صبح ہوئی تو خاوند سے کہا کہ اگر ایک قوم کسی کو کوئی چیز عاربیڈ دے اور پھر واپس لینا چاہے تو کیا اس کو حق ہے کہ اس پر کوئی اعتراض کرے۔حضرت ابوطلحہ نے نفی میں جواب دیا تو کہا کہ اچھا پھر اپنے بیٹے پر صبر کرو۔2 حضرت عبداللہ بن عمر کے صاحبزادہ کا جب انتقال ہوا اور آپ اس کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے تو بدوؤں کے ساتھ دوڑ میں مسابقت کرنے لگے۔اس پر حضرت نافع نے کہا کہ ابھی تو آپ بیٹے کو دفن کر کے آئے ہیں اور اب بدوؤں کے ساتھ دوڑ رہے ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عمر نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت نے جو کام کر دیا ہے اس کے نتائج کو جس طرح بھی ممکن ہو بھلا دینا چاہیے۔جب اسلامی لشکر غزوہ احد سے واپس آرہا تھا تو صحابیات اپنے عزیز و اقارب کا حال دریافت کرنے کے لیے شہر سے باہر نکل آئیں۔ان عورتوں میں ایک حضرت حمنہ بنت ججش تھیں۔آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کہ حمنہ اپنے بھائی عبداللہ بن جحش پر صبر کرو۔انہوں نے یہ سن کر صرف انا اللہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی۔اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنے ماموں حمزہ بن عبدالمطلب کو بھی صبر کرو۔اس پر پھر انہوں نے انا اللہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔دعائے مغفرت کی اور خاموش ہو رہیں۔4- حضرت عبداللہ بن عباس کوسفر میں اپنے بھائی قسم ابن عباس کے انتقال کی خبر ملی۔سن کر اناللہ وانا اليه راجعون پڑھا۔راستہ سے ہٹ کر دورکعت نماز ادا کی اور پھر اونٹ پر سوار ہو کر آگے چل دیئے۔صحابہ کرام کی زندگیوں میں ایسے اعلی اور شاندار نمونے صبر ورضا کے نظر آتے ہیں کہ پڑھ کر عقل انسانی ورطہ حیرت میں غرق ہو جاتی ہے اور صرف مردوں کے نہیں بلکہ عورتوں کے بعض حالات کو پڑھ کر جب اپنے زمانہ کو دیکھا جاتا ہے تو اپنے بزرگوں کے اسوہ سے اس قدر بعد دیکھ کر آنکھیں پرنم ہو جاتی ہیں۔5- ایک صحابیہ حضرت ام عطیہ کا لڑکا خلافت راشدہ کے زمانہ میں کسی غزوہ میں شریک تھا کہ بیمار ہوکر بصرہ چلا آیا۔ماں کو اطلاع ہوئی تو اس کی عیادت کے لیے بصرہ کا رخ کیا۔اور بہ عجلت تمام وہاں پہنچیں۔لیکن پہنچنے سے ایک دو روز قبل اس کا انتقال ہو گیا۔آپ نے اس صدمہ جانکاہ پر نہایت اعلی نمونمہ صبر ورضا کا پیش کیا۔اور تیسرے روز خوشبو لگائی اور فرمایا کہ شوہر کے سوا کسی کے لیے تین روز سے زیادہ سوگ جائز نہیں۔جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ اسلام کی تعلیم یہی ہے۔کہ بین اور نوحہ کرنا منع ہے۔لیکن ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ کسی عزیز کی موت کے صدمہ پر دلی رنج کا پیدا ہون طبعی چیز ہے۔جس کا فقدان کوئی خوبی نہیں بلکہ سنگدلی پر دلالت کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اگر آنسونکل آئیں تو یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔اسلام ن جس چیز سے منع کیا ہے وہ نوحہ اور بین کرنا یا اور ایسی حرکات کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ کے فعل پر شکوہ یا گلہ کا رنگ رکھتی ہوں۔اور بے صبری کو ظاہر کرتی ہوں۔آنحضرت ﷺ کی تعلیم اور صحابہ کرام کے اسوہ کو نظر انداز کر کے ایسے مواقع پر آج کل مسلمان جو کچھ کرتے ہیں وہ اسلام کی تعلیم پر سخت دھبہ لگانے والی بات ہے۔اپنے غیر مسلم ہمسایوں کے تمدنی اثرات کو قبول کر کے مسلمانوں نے اپنی روایات کو بالکل بھلا دیا ہے۔اور موت فوت کے موقعہ پر بالکل وہی کچھ کرتے ہیں جو ہندو یا زمانہ جاہلیت کے عرب کرتے تھے۔یعنی نوحہ اور بین ، سینہ کوبی ، بال نوچنا، کھانے کی دعوتیں، اور تیسرا، چالیسواں وغیرہ کی رسوم ادا کرنا۔حالانکہ ان میں سے کوئی ایک چیز بھی اسلامی تعلیم کے رو سے جائز نہیں۔اور سب سے زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ ملا اومولوی اسلام کی صحیح تعلیم کو زندہ رکھنے کے ذمہ دار تھے۔انہوں نے www۔alislam۔org