مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 64
مسلم نوجوانوں کے ی کارنامے شوق پابندی نماز 127 -1 صحابہ کرام کو عبادت گزاری بالخصوص نماز با جماعت کا اس قدر خیال رہا کرتا تھا کہ حضرت عتبان بن مالک ایک صحابی تھے۔جو نا بینا تھے۔ان کا مکان قباء کے قریب تھا۔مسجد اور ان کے مکان کے درمیان ایک وادی تھی۔بارش ہوتی تو اس میں پانی بھر جا تا تھا مگر باوجوداس کے وہ مسجد میں با قاعدہ حاضر ہوتے اور نماز باجماعت ادا کرتے تھے۔2- حضرت عتبان نے جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ میں نابینا ہوں رستہ خراب ہے اس لیے مسجد میں آنے میں سخت دقت پیش آتی ہے۔اگر اجازت ہوں تو گھر میں ہی نماز پڑھ لیا کروں۔مگر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کیا اذان کی آواز آتی ہے۔عرض کیا ہاں۔آپ نے فرمایا پھر گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں۔چنانچہ آپ مسجد میں ہی حاضر ہو کر نماز پڑھتے۔3- حضرت سعید بن ربوح نابینا تھے لیکن صحابہ کے نزدیک نماز با جماعت اس قدرضروری تھی کہ حضرت عمر نے ان کے لیے ایک غلام کی ڈیوٹی لگارکھی تھی کہ نماز کے وقت ان کو مسجد لایا اور پھر واپس گھر پہنچایا کرے۔-4 حضرت معاذ اپنی قوم کے امام الصلوۃ تھے مگر نماز کا اس قدر شوق تھا کہ پہلے مسجد نبوی میں حاضر ہو کر آنحضرت ﷺ کے ساتھ نماز ادا کرتے تھے۔اور پھر اپنی قوم میں آکر انہیں نماز پڑھاتے تھے۔-5 صحابہ کرام نماز با جماعت کے لیے کس قدر حریص واقع ہوئے تھے اس کا اندازہ کرنے کے لیے یہ واقعہ کافی ہے۔کہ قادسیہ کے میدان جنگ میں جب صبح کی اذان ہوئی تو نوجوان مجاہدین اس قدر سرعت کے ساتھ نماز کے لیے دوڑے کہ ایرانیوں نے خیال کیا کہ حملہ کرنے لگے ہیں۔مگر جب وہ نماز میں مشغول ہو گئے تو ان کے سپہ سالار رستم نے کہا۔کہ عمر مسلم نوجوانوں کے میرا کلیجہ کھا گیا۔یعنی یہ قوم ہمیں ضرور نگل جائے گی۔128 - حضرت بلال کا معمول تھا کہ جب اذان کہتے دو رکعت نماز ادا کر لیتے اور ہمیشہ باوضو ر ہتے تھے۔جب وضو ٹوٹ جا تا فورا دوبارہ کر لیتے تھے۔7 عام عبادات اور نوافل کے علاوہ نماز پنجگانہ کو نہایت پابندی اور اہتمام کے ساتھ باجماعت ادا کرتے تھے۔حضرت سفیان ثوری روایت کرتے ہیں كـــا نــوايـتبــايـعـون الصلوة المكتوبته في الجماعته یعنی صحابہ کرام خرید و فروخت تو کیا کرتے تھے لیکن نماز با جماعت کبھی نہ چھوڑتے۔حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ ایک بار میں بازار میں تھا کہ نماز کا وقت آ گیا۔صحابہ فوراً اپنی دکانیں اور کاروبار بند کر کے مسجد کی طرف چل دیئے۔رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللہ یعنی صحابہ ایسے لوگ ہیں جن کو تجارت کے کاروبار خدا تعالیٰ کی یاد سے نہیں روکتے۔نماز با جماعت کا صحابہ اس قدر خیال رکھتے تھے کہ سخت مجبوری اور معذوری کی حالت میں بھی اسے چھوڑ نا گوارا نہ کر سکتے تھے۔حتی کہ بعض بیمار اور معذور دو آدمیوں کے کندھوں پر سہارا لے کر جماعت میں شریک ہونے کے لیے مسجد آتے تھے۔بنو سلمہ کا محلہ مدینہ میں مسجد سے بہت دور تھا۔ان کو پابندی جماعت کا اس قدر خیال رہتا تھا کہ مشورہ کیا کہ اپنے گھر بار چھوڑ کر مسجد کے قریب جا آباد ہوں۔آنحضرت ﷺ کو اطلاع ہوئی تو آپ نے اس طرح ایک محلہ کو ویران کر دینے کی تجویز کو پسند نہ فرمایا اور فرمایا کہ تمہارا جو قدم بھی مسجد کی طرف اٹھے گا اس کا ثواب ملا کرے گا۔10 - بروقت نماز ادا کرنے کا خیال صحابہ کے اس قدر دامن گیر رہتا تھا کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے ایک صحابی کو ایک فوری اور اہم کام پر مامور کر کے بھیجا۔وہ منزل کے قریب پہنچے تو نماز عصر کا وقت ہو چکا تھا۔آپ نے خیال کیا کہ اگر میں اسی طرح چلتا جاؤں تو ایسا نہ ہو نماز قضا ہو جائے۔دوسری طرف دینی کام میں تاخیر بھی گوارا نہ تھی۔اس لیے www۔alislam۔org