پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 5
پر کیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار 5 جنازہ اور ماتم انہوں نے بچشم خود مشاہدہ کیا اور پھر ” قدرت ثانیہ کے ذریعہ نازل ہونے والی بے شمار برکتوں کے چلتے پھرتے نشان بن گئے۔وہی ہیں جنہوں نے نظام خلافت کی عظمت و برکت کو بصیرت کی آنکھ سے دیکھا۔مشاعرہ کی پانچ نشستوں کا احوال اس تمثیلی مشاعرہ کی کل پانچ نشستیں ہوئیں۔مشاعرہ کا پنڈال چونکہ انوار خلافت کے روحانی فانوسوں ، قمقموں اور قندیلوں کی روشنی سے جگمگا رہا تھا اس لئے کسی موقع پر روایتی شمع سامنے رکھے جانے کی نوبت نہیں آئی اور نہ مشاعرہ اس شعر کا مصداق بن سکا: سخن مجلس آراستند بشعر نشستند , گفتند و برخاستند اس کے برعکس مشاعرہ نے سامعین میں آفاقی نظام خلافت سے عقیدت میں بے پناہ اضافہ کیا۔کبھی اساتذہ فن نے روحانیت کا ایسا سماں باندھ دیا کہ زبانیں درود شریف سے معطر ہو گئیں اور فلک شگاف نعروں نے ان کے دلوں میں اطاعت خلافت کے جذبہ سے موجزن دریا بہا دیے۔