پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت

by Other Authors

Page 38 of 49

پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 38

پر کیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار اک اشارے میں ہزاروں کے لئے دل، ہاتھ میں ہو مبارک ، صد مبارک تجھ کو یہ فتح میں 38 ایکہ آئی فاتحانہ سوئے ما با عز و شاں هدیه تبریک پیش است از من و جمله جہاں ایکہ تیری ذات ہے سر چشمه جود و کرم ہیں تیرے ممنونِ احساں کیا عرب اور کیا عجم ہے تیری ذات گرامی معدن اسرار دیں فیض کیوں پائیں نہ تجھ سے آج شاہانِ تجم ہے سراسر یہ کرامت ، تیرے قدموں کے طفیل بن رہا ہے دشتِ افریقہ بھی گلزار گلزار ارم آج افریقہ میں وہ شان صلیبی ہے کہاں اب تو بحر وبر میں لہراتا ہے اسلامی ہورہے ہیں سرنگوں جھنڈے مسیحی قوم کے ایسے اکھڑے ہیں کہ جمتے ہی نہیں انکے قدم طارق اول بڑھا الرّیف سے تھا سوئے عرب نائیجر نے فاتح سوڈان کے چومے قدم ہے محبوب الہی تو ہے فخر اولیاء چهره پرنور نور سماوی کی قسم xxxxxxxxxxxxxxxxxxxx