پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت

by Other Authors

Page 10 of 49

پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 10

پر کیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار یہ پہلی نظم ہے جو در بار خلافت ثانیہ کے حضور پڑھی گئی ) دعائیں سُن لیں ہماری خدائے قادر نے کیسا فضل کیا اک جری کو بھیج دیا جو نور دیں ہوا اوجھل ہماری آنکھوں تو اک آن میں نور نبی کو بھیج دیا بیجا لیا ہمیں گرنے سے چاہ ظلمت میں که خود بخود ہی امام تقی کو بھیج دیا سمجھ نہ سکتے تھے کیا ہو گیا ایسی حالت میں خدا نے وقت یہ کیسے زکی کو بھیج دیا بشیر ثانی ثانی و محمود 03 فضل عمر ہے وہ بہتریں تھا۔خدا نے اُسی کو بھیج دیا رہی نہ باقی دلوں میں شکوک کی ظلمت جب آسماں سے وحی خفی کو بھیج دیا کوئی تو ہونا تھا آخر خلیفہ ثانی اعتراض ہی کیا ہے ؟ کسی کو بھیج دیا فسردگی ہوئی کافور احمد بیت سے 10 جلا کے شمع ہدی روشنی کو بھیج دیا دعا کرتا گوہر تیرے لئے محمود ہے جہاں میں پھولو پھلو ہووے عاقبت مسعود (الفضل ۱۸ مارچ ۱۹۱۴ء صفحه ۳ )