پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت

by Other Authors

Page 16 of 49

پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 16

پُر کیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار خال و خط سے آپ کے نقش ولایت آشکار تیوروں سے آپ کے نور نبوت آشکار آپ کی آنکھوں کو حق بینی کا آئینہ کہیں صافی کو زیبا ہے که بے کینہ کینہ کہیں موجزن ہے آپ کے سینہ میں دریائے علوم آپ کے دل میں نہاں لولوئے لالائے علوم آپ دارائے معافی اور دانائے علوم ہیں عرفان حق کے درس فرمائے علوم آپ نے دیکھی ہیں آنکھیں پیارے نور الدین کی پائی ہے تعلیم اُن سے دنیا کے آئین کی مرنے والا جانتا تھا علم قرآن کے رموز ان کو ازبر تھے کلام پاک سبحاں کے رموز دل میں کرنے والے گھر وہ خط جاناں کے رموز آہ وہ وہ دیں کے اشارات اور ایمان کے رموز اُن کی میراث آگئی ہے آپ کی تقسیم میں یہ وہی گنج نہاں ہے آپ کی تعلیم میں ہیں نور دیں بھی آپ ہیں نور نبی بھی آر ایسے نازک وقت میں مرد جری بھی آپ ہیں امعی ولوژی و منتہی بھی آپ ہیں آپ ہیں حق کے ولی مرد سختی بھی آپ ہیں xXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXxXx 16