پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 18
18 پر کیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار مدتوں تک ہم رہے اس کی خلافت کے تلے اس کی حکمت کے تلے۔اس کی حکومت کے تلے اُس کی ہمت کے تلے۔اس کی حمایت کے تلے۔چھ برس تک اس کے ظلنِ عدل و رافت کے تلے اس کے آگے کر دیا ہم نے سر تسلیم خم ہے پتہ کی بات اس کے سامنے مارا نہ دم تھا خدا کا ہاتھ ہی تھا جو ہمارے ہاتھ پر عہد تھا جس نے لیا ہم سے خدا کی بات پر اک حکومت تھی ہمارے طور پر عادات پر جس کا قابو تھا ہمارے نفس کے جذبات پر توڑ دی بیعت تو پھر بیعت کئے آخر بنی تھی مصیبت جو ہماری جان اور دم پر بنی مختصر یہ ہے کہ بیعت کر کے ہم زندہ ہوئے جو پریشاں پھر رہے تھے آخرش یکجا ہوئے رشتہ وحدت میں آئے اور کیا سے کیا ہوئے عیسی احمد میں میٹ مٹ کر دم عیسی ہوئے زندہ کر لینا ہمیں مردوں کا آسان ہو گیا اکمہ و ابرص کے دُکھ کا ہم سے درماں ہو گیا یہ جو کچھ حاصل ہوا وحدت کی برکت سے ہوا نور دیں کے فیض سے اور اسکی صحبت سے ہوا