پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 6
پر کیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب صیح الزماں کے عاشقانہ اشعار پہلی نشست مشاعرہ کا آغاز سورۃ نور کی آیت استخلاف کی تلاوت سے ہوا۔جس کے بعد حضرت مسیح موعود کے مبارک الفاظ میں اس کا یہ ترجمہ سنایا گیا: خدا نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کئے یہ وعدہ کیا ہے کہ البتہ انہیں زمین میں اسی طرح خلیفہ کرے گا جیسا کہ ان لوگوں کو کیا جو ان سے پہلے گذر گئے اور ان کے دین کو جو ان کے لئے پسند کیا ہے ثابت کر دے گا اور ان کے لئے خوف کے بعد امن کو بدل دے گا۔میری عبادت کریں گے۔میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔(روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۲۴) ازاں بعد خلفائے راشدین سے متعلق حضرت مسیح موعود کے قصیدہ عربیہ کے چند اشعار اس درجہ خوش الحانی سے پڑھے گئے کہ ناظرین پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی ملخص ان کا اردو میں یہ تھا کہ خلفائے راشدین حزب اللہ اور دین کے محافظ تھے۔میں حضرت ابوبکر صدیق کو نصف النہار کے سورج کی طرح پاتا ہوں اور آپ مصطفی امیہ کے کل تھے اور آپ کی عظیم خدمات چودہویں کے چاندوں کی طرح درخشاں ہیں اور حضرت عمر فاروق ہر فضیلت میں آپ کے مشابہ تھے آپ ہی کے عہد میں مصطفی اللہ کے شاہسواروں کے گھوڑوں نے عیسائی ممالک کی غبار اڑا دی اور لشکر دیں نے قیصر و کسریٰ کی شوکت کو پاش سر الخلافة) پاش کر دیا۔عربی قصیدہ نے فضا میں زبر دست ارتعاش پیدا کر دیا۔پورا ماحول خلفاء راشدین پر درود شریف سے معطر ہو گیا اور پنڈال حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق ، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی شیر خدا زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ایسا سماں پہلے چشم فلک XXXXXXXXXXE