مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 85 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 85

(۸۵) جواب۔۔۔اس قسم کی سلیپ واکنگ در اصل سود مند ثابت ہوتی ہے یونی فیکیشن آئیڈیاز کو جس چیز کی ضرورت تھی اس کو ہم گیج تھیوریز کا نام دیتے ہیں یہ گیج تھیوریز دراصل میکس ویل Maxwell نے ۱۸۷۹ء میں دریافت کیں تھیں۔الیکٹرو میگنیٹک کے اتحاد کیلئے اس نے جو مساوات وضع کیں ان سے معلوم ہوتا ہے پھر ان کی تشریح ۱۹۲۹ء میں جرمن ریاضی دان هیر مین وائل Hermann Weyle نے کی ان کو جس صورت میں اب ہم استعمال کرتے ہیں یہ صورت ینگ اور ملز Yang & Mills اور میرے ایک شاگردشاء Shaw نے ۱۹۵۴ء میں دی تھی ان آئیڈیاز کا آغاز میکس ویل سے ہو انگران کو وسیع انداز میں اب موجودہ دور میں زیر استعمال لایا گیا ہے۔پھر ہم نے (یعنی میں نے۔وائن برگ اور گلا شو) نے سوچا کہ انہی گیج آئیڈیاز کی تو ہمیں اب ضرورت ہے یہ گویا اس سلسلہ میں ہماری کنٹری بیوشن تھی۔آپ کو معلوم ہوگا نیوٹن سے جب پوچھا گیا کہ وہ اتنا عظیم انسان کیوں کر بن گیا تو اس نے جواب دیا۔میں عظیم انسان نہ تھا مگر میں عظیم انسانوں کے کندھوں پر کھڑے ہو کر عظیم بن گیا۔تو میرے نزدیک ہر نسل انسانی میں ایک سیٹ آف آئیڈیاز ہوتے ہیں جو عموماً ان میں اور پرانی نسل میں کا من ہوتے ہیں مگر لوگ ان کی دریافت کا سہرا اس شخص کے سر باندھ دیتے ہیں جس نے ان کا استعمال سب سے اچھا کیا ہوتا ہے اس نوع سے شاید فزکس ہمیشہ ہی سلیپ والکنگ کرتی رہی ہے۔جب میں نے یہ کہا کہ ۱۸۷۹ ء میں میکس ویل کو ایک زبر دست آئیڈیا دماغ میں آیا تو در حقیقت اس نے یہ آئیڈیا یا سیٹ آف آئیڈیاز کو فیراڈے Faraday سے ورثہ میں لیا تھا میکس ویل نے فیراڈے کی مساوات کو کاغذ پر لکھ کر اس کا بغور مطالعہ کیا۔تو اسے معلوم ہوا کہ وہ بے ربط inconsistent تھیں تو اس نے ایک اور ٹرم کا اس میں اضافہ کر دیا تو یوں اس لحاظ سے یہ چیز اٹل اور مبرم inevitable تھی گویا یہ بھی سلیپ واکنگ کی ایک لطیف صورت تھی۔آئن سٹائن کے آئیڈیاز کو دیکھیں ہم ان کو انقلابی اور زمین مسکن تسلیم کرتے ہیں۔یعنی وہ آئیڈیاز جن کا تعلق زمان و مکان میں جھکاؤ Curvature of space & time سے۔سے ہے اور جو قوت ثقل کے