مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 84
(۸۴) سوال۔۔۔جب آپ نے یوٹی فیکیشن تھیوری پر ریسرچ شروع کی تو کیا آپ بھی نو عمر تھے؟ جواب۔۔۔اس آئیڈیا کا دراصل آغاز ۱۹۵۷ء کے لگ بھگ ہوا جب میں اس وقت ۳۱ سال کا تھا ، جو کہ جوانی کا ہی زمانہ ہے مگر اس پر عمل درآمد میں کافی عرصہ بیت گیا۔سوال۔۔کیا آپ ہر روز علی اصبح اٹھ کر اس تھیوری پر ریسرچ اور غور و فکر کا کام کیا کرتے تھے؟ جواب۔۔۔نہیں ہرگز نہیں، یہ تمام کام دھیرے دھیرے سے انجام پذیر ہوا انسان ان مخصوص سیٹ آف آئیڈیاز پر کام کرتا ہے پھر انہیں چھوڑ دیتا ہے۔پھر کسی اور موضوع پر کام شروع کر دیتا ہے پھر انسان دوبارہ پہلے والے سیٹ آف آئیڈیاز پر واپس کام شروع کر دیتا ہے اور یوں ایسا ہوتا رہتا ہے اس دوران بعض مضامین شائع کرتا رہتا ہے اور رفتہ رفتہ ریسرچ آگے بڑھتی رہتی ہے۔سوال نمبر ۲۰۔۔۔مگر کیا کبھی ( ریسرچ کے دوران ) آپ غلط ڈگر پر تھے یعنی کوئی بڑی غلطی آپ نے کی؟ جواب۔۔۔شاید یہ خود بینی یعنی Egotism کا معاملہ ہے مگر میں کوئی ایسے کام کا سوچ نہیں سکتا جس میں میں مکمل طور پر غلط ڈگر یا رو پر کام کر رہا تھا ، بہت سارے آئیڈیاز یقینا احمقانہ تھے جن کا نتیجہ کچھ بھی نہ نکلا مگر ایسا ہم سب کے ساتھ ہوتا ہے نا وے فی صد آئیڈیاز کا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلتا آپ خود کو بہت خوش قسمت انسان جانتے ہیں کہ اتنے سارے آئیڈیاز میں سے صرف ایک بھی صحیح ثابت ہو جائے۔سوال۔۔۔کیا آپ کو اس بارہ میں کوئی وسوسہ یا اندیشہ نہ تھا ؟ جواب۔۔۔ہر گز نہیں ہماری فیلڈ میں جب آپ کا میاب آئیڈیاز پر نگاہ ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے بارہ میں inevitability موجود تھی اس کا پورا اظہار میں ایک لفظ سے کر سکتا ہوں یعنی سلیپ والکنگ۔یہ مشہور سائینسدان اور مصنف ، آرتھر کونسلر Arthur Koestler کی کتاب کا نام بھی ہے جس میں کو پر ٹیکس کیپلر ، اور گیلی یو ، جیسے شہرہ آفاق سا ئینسدان موضوع سخن ہیں انسان چھوٹے چھوٹے قدم لے کر ترقی کی جانب رواں ہوتا ہے۔سوال۔۔۔گویا سلیپ واللنگ فزکس میں ریسرچ کرنے کا غیر متحرک passive طریق کار ہے؟