مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 81 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 81

(AI) رہے ہو اس کو ٹیسٹ کیا جا چکا ہے اور یہ کہیں دریافت نہیں ہوئی لہذا تم اس پیپر میں اس بات کا اضافہ کر دو کہ یہ تحقیق تمام کی تمام Speculative قیاسی ہے۔اور بادل نخواستہ مجھے ایسا پیپر میں لکھنا پڑا تا کہ میرا پیپر کم از کم شائع تو ہو جائے ، اس وقت ہونے والے تجربات غلط تھے جن کی طرف وہ ایڈیٹر اشارہ کر رہا تھا لیکن ہمیں اس کی اطلاع بعد میں ملی۔سوال۔۔۔تو پھر تھیوری قبول عام کیسے ہوئی ؟ جواب۔۔۔جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ تھیوری کی تشریح ۱۹۶۷ء میں ہوئی تھی اس ضمن میں ایک ڈچ نوجوان ریاضی دان THoof کا ذکر بہت ضروری ہے جس نے یہ ثابت کیا کہ میری تھیوری ریاضی کے تمام اصولوں پر پر کھے جانے کے بعد قابل تسلیم ثابت ہوتی ہے یہ اس نو جوان کا پہلا تحقیقی کام تھا۔جو اس نے ۲۵ سال کی عمر میں کیا اس لئے اس آئیڈیا کو تھیوری ٹیشن کے نزدیک وقعت حاصل ہو گئی۔یہ کام ۱۹۷۱ء میں ہوا پھر ۱۹۷۳ء میں تجربہ کر نیوالے سائینس دانوں نے تجربات دوبارہ کئے جو جنیوا میں سرن CERN کے اندر واقع ایکسل رے ٹر میں کئے گئے تھے۔ان سے پتہ چلا کہ ہماری تھیوری فی الواقع صحیح خطوط پر ترتیب دی گئی تھی پھر امریکہ میں بھی تجربات کئے گئے جنہوں نے جنیوا کے تجربات کو منفی قرار دیا۔یوں کچھ سالوں تک امریکہ اور جنیوا کے تجربات میں یہ عمل دخل جاری رہا۔سوال۔۔۔یہ بات دلچسپی کی حامل ہے کہ وہ تجربات غلط ثابت ہوئے فزکس کی فیلڈ میں ایک آؤٹ سائیڈر ہو نیکی بناء پر ایک شخص یہ سوچتا ہے کہ فزکس میں ایکس پیری مینٹل ڈیٹا تو کم از کم قابل اعتماد ہو میں حیران ہوں کہ ( ٹھوس) حقائق اکثر یوں غلط ثابت ہوتے ہیں جوار دیکھیں بات یہ ہے آئیے مثال کے طور پر ایک تجربہ کولیں جس کا تعلق یونی فی کیشن کے اگلے مرحلہ سے ہے جیسا کہ میں نے عرض کیا ہم نے الیکٹرومیگ نیٹک فورس کو ویک نیوکلئر فورس سے متحد کر دیا ہے۔مگر ایک اور نیوکلیئر فورس بھی جس کا نام سٹرانگ نیوکلئیر فورس ہے جس کا اتحاد بھی و یک فورس سے نہیں ہوا ہے ہمیں امید ہے کہ ایسا ضرور ہو گا اور ہم میں سے کئی ایک یہ باور کرنا چاہیں گے کہ ایسا اس وقت ہو رہا ہے اس کیلئے فیصلہ کن تجربہ decay of proton ہے پروٹان اس