مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 80 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 80

(A۔) انعام یافتہ سائینس دان بھی شامل ہیں میرے آئیڈیاز سے اتفاق نہیں کرتے تھے وہ کائینات میں کارفرما دو بلکل مختلف قوتوں کے فی نامینا phenomenon کو متحد کرنے کے خیال سے اس قدر گھبراتے تھے کہ وہ ایسا کرنے والے یا سوچنے والے کو احمق انسان گردانتے تھے۔ہوئے؟ سوال۔۔کیا آپ کے خیال میں آپ کے مذہبی عقائد ان قوتوں کو متحد کرنے میں ممد ثابت جواب۔۔۔شاید ایسا ہی ہو کیونکہ میرے ذہن کے پیچھے والے خانہ میں یہ خیال ضرور موجود تھا، مگر میں جان بوجھ کر خوب سمجھتے ہوئے ایسا نہیں کہوں گا کیونکہ مذہبی تعلیمات میں بیان کردہ اتحاد یعنی unity انسان کی سوچ پر ضرور اثر انداز ہوتی ہے۔نہیں ہے؟ سوال۔۔۔اسٹیون وائن برگ بھی آزادانہ طور پر اسی نتیجہ پر پہنچا تھا۔کیا یہ بات اچنبھا والی جواب۔۔ہر گز نہیں ، ہمارے موضوع میں بیان ہونے والے آئیڈیاز کا من ہیں مگر ان آئیڈیاز کا diffusion یعنی ان کا انتشار حیران کن طریق سے بہت وسیع ہے ہر شخص (سائینسدان ) یہ بات جانتا ہے کہ اس کی فیلڈ میں کیا ریسرچ ہو رہی ہے شاید اس کی وجہ یہ سٹم ہے جو ہم نے ڈی ویلوپ کیا ہے یعنی سمر سکولز اور سمپوزیم۔اور پری پرنٹ سسٹم۔فی الحقیقت یہ سٹم بہت مؤثر ہے اور تھیورٹیکل فزکس میں یہ کسٹم سب سے زیادہ آرگنا ئز ہو چکا ہے جب میں اور سٹیو Steve اس تھیوری پر ریسرچ کر رہے تھے ہم ان آئیڈیاز کو مد نظر رکھ کر ہی ریسرچ کا کام کر رہے تھے جو اگر چہ شائع ہو چکے تھے مگر ان کو زیادہ وقعت نہیں دی جاتی تھی اس لحاظ سے یہ فیلڈ تمام کی تمام ہمارے حلقہ اثر میں تھی یہ نسبت آج کے دور کے سوال نمبر ۱۲۔۔۔کیا سائینسدانوں نے آپ کی نئی تھیوری کو فوراً قبول کر لیا تھا ؟ جواب۔۔نہیں ہر گز نہیں، تھیوری کی تشریح منظر عام پر ۱۹۶۷ء میں آئی تھی مگر اس کو بلکل نظر انداز کر دیا گیا بلکہ اس سے پہلے ہی یہ نظر انداز ہو چکی تھی یعنی وہ پیپر جو میں نے ۱۹۶۴ء میں لکھا تھا اور جو میں نے ایک سائنسی جرنل کے ایڈیٹر کو بجھوایا تھا۔جس نے جو ابا مجھے لکھا تھا جس چیز کی تم پیش گوئی کر