مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 79
ریاضی۔۔میں نے جواباً عرض کیا (69) انہوں نے کہا ہاں، میرا بھی یہی اندازہ تھا کیا تمہیں اس بات کا اندازہ ہے کہ تمہیں صرف تین ریڈنگ لینے کی بجائے ایک ہزار ریڈنگ لینی چاہئے تھیں۔اور پھر ان کے درمیان میں سے سیدھی لائن گزارتے۔میں خموش رہا اور دل میں کہا کہ میں واپس تجربہ گاہ میں ہرگز نہیں جاؤنگا۔کہ پھر دوبارہ وہاں جا کر سر دردی میں بھر پور تین دن گزاروں۔میں اس وقت تک اپنے ایکس پیری میٹ کے ساز و سامان کے اجزاء کو الگ الگ کر چکا تھا اور میں واپس تجربہ گاہ نہیں جانا چاہتا تھا اس کے بعد میں نے پروفیسرول کن سن کو بقیہ سال اپنا مونہہ نہ دکھایا۔مجھے ۱۹۴۹ء کا وہ دن ابھی تک ہے جب امتحانات کے ریزلٹ آئے تو میں کیونڈش میں دیوار پر لگی فہرست پر اپنا نام تلاش کرنے میں مگن تھا تو پیچھے سے مسٹر ول کن سن اچانک نمودار ہوئے اور فرمایا تمھا ہے کتنے نمبر آئے اور کیا کلاس ملی ھے ؟ جناب مجھے فرسٹ کلاس ملی ہے۔میں نے شرمندگی سے جواب دیا وہ اپنے پاؤں پر کھڑے کھڑے تین سو ساٹھ ڈگری گھوم گئے اور مجھ سے مخاطب ہوئے ، اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان بعض دفعہ دوسروں کے بارہ میں کس قدر غلط اندازے لگا لیتا ہے۔تو ہم بات فریڈ ہوئیل سے مشورہ کی بات کر رہے تھے ان کا مشورہ نہایت مناسب اور موزوں تھا۔سوال۔۔۔پارٹیکل فزکس میں تھیوری کے بعض اجزاء کو ملانے سے آپ کو نوبیل پرائز ملا ہے آپ کو اس کا آئیڈیا کیسے آیا ؟ جواب۔۔۔یہ آیڈ یا بہت ہی دلکش ہے۔پارٹیکل فزکس بلکہ فزکس کی تمام تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ فزکس میں موجود کن سیپٹس Concepts کو کم سے کم تعداد میں سمیٹا جائے اور جب انسان ان آئیڈیاز کو کم سے کم تعداد میں بیان کرنے کے کام میں مصروف ہوتا ہے تو یہ کام بلکل نیچرل معلوم ہوتا ہے۔فی الحقیقت اس بات پر مجھے اچنبھا ہوتا ہے کہ میرے بعض احباب جن میں سے بعض ایک نو بیل