مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 328
(۳۲۸) کے ساتھ پرنسٹن میں کام کرنیکا موقعہ ملا تھا؟۔کے دسمبر ۱۹۸۷ء کو لاہور میں ڈاکٹر صاحب نے اپنی زندگی کے واقعات کے بارے میں انٹرویو دیا جس کی ویڈیو کیسٹ موجود ہے، یہ انٹر ویو ساڑھے چار گھنٹے پرمشتمل ہے۔اس میں ڈاکٹر صاحب کے جوابات انگلش اور پنجابی میں ہیں۔اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ آئن سٹائین سے ملے تھے۔انہوں نے جواب دیا: آئن سٹائین، پرنسٹن انسٹی ٹیوٹ سے ملحقہ ایک مکان میں رہتا تھا۔He was too old to do any work وہ صرف انسٹی ٹیوٹ کا ایک چکر لگا لیا کرتا تھا۔We used to stand outside his house when he came out of the house, we used to walk him to the Institute and then walk back with him to his house۔He was too old to do any work۔ایک مرتبہ آئن سٹائین نے مجھ سے پوچھا کہ تم کیا کرتے ہو؟ میں نے جواب دیا کہ میں رینار مالائز یشن تھیوری پر کام کر رہا ہوں۔تو یہ سن کر اس نے کہا ،I am not interested in that پھر آئین سٹائین نے مجھے سے پوچھا کہ تم نے میری تھیوری پڑی ہے؟ تو میں نے اس کو جواب دیا: ۸۹ I am not intrested in that۔جناب ایم ایم احمد نے بیان کیا: ڈاکٹر عبد السلام کو جو اعزاز ملا ( یعنی نوبل انعام سے ملنے والی رقم ساٹھ ہزار ڈالر ) انہوں نے