مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 237
(۲۳۷) الاقوامی ادارے کا اجراء کیا جس کا نام انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹیکل فزکس ہے۔اور جو اقوام متحدہ کے زیر نگرانی اٹلی میں گزشتہ قریب چالیس سال سے ہزاروں سائینسدانوں کو اعلیٰ تربیت اور سائینسی و تخلیقی ماحول فراہم کر رہا ہے۔سلام اس انوکھے مگر نہایت موثر بین الاقوامی ادارے کے بانی ڈائر یکٹر تھے۔ان کی ان تھک محنت ، جذ بہ صادق ، اور کچی لگن سے یہ تعلیمی ادارہ ثمر آور ہو رہا ہے۔ڈاکٹر سلام کی کرشماتی شخصیت ، بے پایاں خلوص اور تیسری دنیا کے مفلوک الحال سائینسدانوں کے لئے ان کے والہانہ لگاؤ اور محبت کا ایک جاوداں اظہار، یہ تاج محل جیسا ادارہ ہے۔بہ حیثیت استادان کا امپرئیل کالج آف سائینس اینڈ ٹیکنالوجی (لندن) میں چالیس سال تک تقرر نیز ٹریسٹ سے ہر سال ہزاروں سائینسدانوں کا تیار ہونا ، جدید ریسرچ کا کام کرنا ، نیوٹن اور آئن سٹائین کی منفرد شخصیات پر سلام کو فوقیت دیتا ہے۔ڈاکٹر سلام کی طلسماتی شخصیت ان کی سائینسی گہری علوم دلچسپی ، ان کا تبحر علمی، نیز اقتصادی اور مذہبی امور پر ان کی زبر دست گرفت ان کو دنیا کی قد آور شخصیات کی صف اول میں کھڑا کر دیتی ہے۔آئن سٹائین کو آکسفورڈ یونیورسٹی نے ۱۹۳۱ء میں اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا، جبکہ سلام کو کیمبرج نے ۱۹۸۵ء میں اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا۔آئین سٹائین اور سلام میں ایک مشترک بات یہ ہے کہ دونوں کو نوبل انعام دیا گیا۔آئین سٹائین کے بیٹے نے ڈاکٹریٹ کی جبکہ سلام کی بڑی صاحبزادی عزیزه رحمن (لاس اینجلس) نے بیالوجی میں ڈاکٹریٹ کی۔نیز آپ کا منجھلا بیٹا عمر سلام بھی اس کتاب کی اشاعت کے وقت کیمبرج سے ریاضی میں ڈاکٹریٹ مکمل کر رہا ہے۔آئین سٹائین کے ایک شاگرد آٹوسٹرن oto Stern کو ۱۹۴۳ء میں طبیعات کا نوبل انعام دیا گیا، جبکہ سلام کے ایک شاگرد والٹر گلبرٹ Walter Gilbert کو ۱۹۸۰ء میں کیمسٹری کا انعام دیا گیا۔پر وفیسر گلبرٹ ۱۹۵۳ء میں لندن میں سلام کے پی ایچ ڈی کر نیوالے طلباء میں سے ایک تھے۔بعد میں ہارورڈ یو نیورسٹی میں واپس آکر انہوں نے اپنی فیلڈ جینیات میں تبدیل کر لی اور انہیں جینیٹک کوڈ کو ڈی سائیفر کر نے کی تکنیک دریافت کرنے پر نوبل پرائز دیا گیا۔اس بات کا اعتراف پروفیسر گلبرٹ نے ان الفاظ میں