مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 236 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 236

(۲۳۶) پاکستان بجھوانیکا انتظام کیا۔نیز صدیوں پاکستانی سائینسدانوں کو امریکہ اور یوروپ کی یونیورسٹیوں میں اپنا اثر و رسوخ استعمال میں لاتے ہوئے داخلے دلوائے۔اور اپنی جیب سے ان کی فیسیں ادا کیں۔۱۹۷۹ء میں جب ڈاکٹر سلام کو نوبل انعام دیا گیا تو صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ان کا پاکستان میں شایان شان استقبال کیا، جھنگ میں ان کے آبائی گھر کو قومیا لیا گیا ، ان کو ملک کا سب سے بڑا سولین ایوارڈ نشان امتیاز عطا کیا گیا۔پاکستان کی قائد اعظم یونیورسٹی میں ان کے نام سے ایک سائینسی ایوارڈ قائم کیا گیا جس کی مالیت ایک ہزار ڈالر ہے اور جو ہر سال ایک ہونہار طالبعلم کو دیا جاتا ہے۔نازمہ مسعودان ہونہار طالبعلموں میں سے اس انعام کو حاصل کرنے والی ایک طالبعلمہ ہے)۔پچاس تحقیقی مقالے لندن نقل مکانی کرنے کے بعد سلام نے امپرئیل کالج آف سائینس اینڈ ٹیکنالوجی میں اپنی تعینانی کے بعد پہلے آٹھ برسوں ۶۴۔۱۹۵۷ء میں پچاس تحقیقی مقالے شائع کئے ، نظریاتی طبیعات میں ۲۵ طالبعلموں نے ان کے ماتحت ڈاکٹریٹ کی۔۱۹۸۵ ء تک سلام کے کل شائع شدہ مقالوں کی تعداد ۲۵۰ تک پہنچ چکی تھی اس کے علاوہ انہوں نے ۱۰۰ سے زیادہ بین الاقوامی کانفرنسوں میں بھی شرکت کی۔نیز سائنس اور سیاسیات سے تعلق رکھنے والی سر بر آوردہ شخصیات سے ان کے روابط اور ملاقاتوں کی تعداد بھی ان گنت ہے۔غرضیکہ سائینس کے فروغ کیلئے انہوں نے دنیا کے گوشے گوشے کا سفر کیا۔میری تحقیق کے مطابق ڈاکٹر صاحب مندرجہ ذیل شہروں کو وزٹ کیا تھا: ڈھاکہ، پاسا ڈینا ( کیلی فورنیا)، میکسیکوسٹی ، سوات، نیو یارک، سٹاک ہالم، اسلام آباد، واشنگٹن ، جھنگ ، بادن ( وی آنا)، پیرس، آکسفورڈ ، آلٹن برگ (آسٹریا)، کلکتہ، بمبئی، امرتسر، دہلی، قادیان، قرطبہ، اٹاوہ، ٹورنٹو، میڈرڈ، خرطوم، نیروبی، کا سا بلانکا، مراکش شہر، بٹاویا (ایلی نائس، امریکہ ) ، میڈیسن (وسکانسن ) فلو رینس، باری (اٹلی)، میلان ، روم، نتھیا گلی ، استنبول، کنگٹن (جمیکا)، بی جینگ (چین)، جی نوآ (اٹلی)، تهران، ایڈنبرا، کراکس ( وینزویلا) اوسلو، سری لنکا، ری پبلک آف بنین ، اور پاکستان کے بہت سارے شہر۔نیوٹن اور آئن سٹائن بالترتیب کیمبرج اور پرنسٹن سے منسلک رہے جبکہ سلام نے خود ایک بین