مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 233
(۲۳۳) مثال اوصاف کی بناء پر وہ اپنے شہر کے روشن خیال اور وسیع النظر لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔پر وفیسر عبد السلام کے والد ماجد کی پہلی رفیقہ حیات جب دو سال کے ازدواجی رشتہ کے بعد رحلت کر گئیں تو یہ صدمہ ان کیلئے نا قابل برداشت تھا، وہ قریب قریب گوشہ نشین ہو کر رہ گئے۔اس صدمہ کے بعد انہوں نے خدا سے لو لگالی اور اپنے آپ کو نماز اور دعا میں وقف کر دیا۔دنیوی امور سے ناطہ توڑ لیا اور رفتہ رفتہ ان کی شبینہ دعاؤں میں خشوع و خضوع پیدا ہوتا گیا۔آخر مولی کریم نے ان کی متضر عانہ دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا اور ان کی شادی محترمہ ہاجرہ بیگم صاحبہ سے ہوگئی جو ایک مثالی رفیقہ حیات ثابت ہوئیں۔خدا تعالیٰ نے ان کی دعاؤں کو مزید شرف قبولیت اس وقت عطا کیا جب ۳ جون ۱۹۲۵ء کو نماز جمعہ کے بعد نوافل ادا کرتے ہوئے ان کو ایک فرزند ارجمند کی بشارت دی گئی اور ہونے والے نور نظر کا نام عبد السلام تجویز کیا گیا۔ڈاکٹر عبدالسلام کی والدہ نے انہیں احساس تحفظ نوازا۔اور ممتا کی مثالی محبت کی طرح ان کو بھر پور محبت سے پالا۔ان کی والدہ بھی ایک دیندار گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ان کے بڑے بھائی حکیم فضل الرحمن نے ہیں سال بحیثیت داعی اسلام مغربی افریقہ میں گزارے تھے۔وہ ایک رحمدل اور نیک فطرت خاتون تھیں۔ان کے سادہ سے دل میں جو انمول خزانے تھے وہ انہوں نے اپنے لخت جگر پر نچھاور کر دئے۔وہ قناعت پسند بھی تھیں، اپنے خاندان سے محبت، اپنے مذہب سے والہانہ پیار ان کی فطرت میں رچا ہوا تھا۔سلام نے یہ اعلیٰ خوبیاں اپنی والدہ سے ورثہ میں پائیں ، سکول جانے سے قبل ان کی والدہ نے ان کو لکھنے پڑہنے کے ساتھ قرآن مجید پڑھنا سکھایا۔بچپن سے ہی سلام کا حافظہ بلا کا تھا، چونکہ انہوں نے قرآن کریم چھوٹی عمر میں ہی پڑھ لیا تھا اس وجہ سے انہوں نے میٹرک کے امتحان میں عربی کا اختیاری مضمون چنا تھا۔سلام کے مذہبی نظریات اور زندگی میں ان گنت کامیابیوں اور اعزازات کی فہرست بناتے وقت ان کے اوائل زندگی کے حالات کو پس منظر میں رکھنا ضروری ہے۔ان کا بچپن ان کے والد گرامی کے وضع کردہ اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے گزرا۔اسی تربیت نے آگے چل کر ان کی خصوصی کیفیات اور رجحانات کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔