مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 234 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 234

(۲۳۴) ڈاکٹر سلام بچپن سے ہی ان تھک محنت کر نیوالے انسان تھے۔ان میں معلومات جذب کرنے کی صلاحیت، کامل توجہ اور ارتکاز کی استعداد قابل رشک حد تک تھی۔کیمبرج میں قیام کے دوران انہوں ان فطری صلاحیتوں کا صد فی صد استعمال کیا۔ان تمام مشقت طلب کاموں، ریسرچ، اعلیٰ درجہ کے مضامین کو ضبط تحریر لانے میں، بڑے بڑے وزراء، رؤسا اور سربراہان مملکت سے ملنے کے باوجود انہوں نے اپنی روحانی اور جسمانی صحت کا ہمیشہ خاطر خواہ خیال رکھا۔مذہب اسلام سے لگاؤ ، نماز میں شغف، اور متقی ہونے کے اوصاف نے ان کے ذہن کو پراگندہ خیالات سے ہمیشہ محفوظ رکھا۔۱۹۸۹ء میں ڈاکٹر سلام پر ایک اعصابی بیماری کا حملہ ہو اگر اس کے باوجود وہ تمام تدریسی ، اور انتظامی امور سر انجام دیتے رہے۔نیوٹن جب پچاس سال کا ہوا تو اس کا بھی نروس بریک ڈاؤن ہو گیا تھا کیونکہ وہ ہر وقت ریسرچ، مطالعہ، تجربات اور نئے نئے مضامین لکھنے میں مصروف رہتا تھا) پرنسٹن انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانس سٹڈی (نیو جرسی امریکہ) نے ڈاکٹر سلام کو یہاں آکر ریسرچ کرنے کی دعوت دی۔ان دنوں آئن سٹائن بھی پرنسٹن میں رہائش پذیر تھا۔یوں سلام کو اس صدی کے ایک نامور سائینسدان کو قریب سے ملنے اور دیکھنے کا اتفاق ہوا۔سلام نے ری نارمالا ئز یشن کے دقیق موضوع پر جو کام کیا تھا اسکی بناء پر ان کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملی تھی نیز پرنسٹن میں جب فیلوشپ ملی تھی اس وقت ان کی عمر صرف ۲۵ سال تھی۔سلام نے پہلا ریسرچ پیپر ۱۶ سال کی عمر میں لکھا تھا جس کا عنوان راما نو جن کا ایک مسئلہ تھا اور جو ریاضی کے ایک جرنل میں شائع ہوا تھا۔آئن سٹائن جب ۱۶ سال کا تھا تو اس کے ذہن میں اس انقلابی خیال نے جنم لیا تھا کہ اگر وہ روشنی کی لہر (لائٹ ویو) پر سوار ہو کر سفر کرے تو اس کو دنیا کیسی نظر آئیگی؟ یا در ہے کہ روشنی کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔اس عمر میں آئین سٹائین ہائی سکول ڈراپ آؤٹ تھا۔نیوٹن، آئین سٹائین اور سلام میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ ان تینوں سائینسدانوں نے سائینس کی وہ تھیوریز جو تاریخ ساز تھیں اس وقت اخذ کیں جب ان کی عمر پچیس برس کے قریب تھی۔