مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 224 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 224

(۲۲۴) اور پھر ان ہاتھوں نے کتنے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھاما۔مجھے آج تک ان گر میلے ہاتھوں کی لمس اچھی طرح یاد ہے جب میں ۱۹۸۷ء میں اس ادارے میں پہلی بار گیا تھا اور ایک تقریب میں ان سے ملنے کا شرف حاصل ہوا۔ترقی پذیر ملکوں کے سینکٹروں سائینسدان ایک لمبی قطار میں تسبیح کے دانوں کی طرح پروئے ہوئے کھڑے تھے اور پروفیسر سلام سے ہاتھ ملانے اور ان کی نصیحت یا سرزنش کے دو بول سننے کی خوشی حاصل کرنے کیلئے آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے۔ان سے ملاقات اس طرح ہو رہی تھی جیسے وہ اپنے ہاتھوں سے ان دانوں کو آگے ترقی کی جانب بڑھا رہے ہوں۔میری باری آئی تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں میرا ہا تھ لے کر اپنی روشن آنکھوں سے جو پیغام مجھے دیا وہ میرے نزدیک یہ تھا: اپنی پوری قوم کی تقدیر بدلنا تمہارا بنیادی فرض ہے اور یہ کام سائینس کو پروان چڑھا کر ہی ہو سکتا ہے۔اس موقعہ سے بھر پور فائدہ اٹھاؤ اور دوسروں کو بھی اپنے سفر میں شامل کرلو۔۱۹۸۷ء میں آئی سی ٹی پی میں میرے پہلے دورہ نے ہی میری سائینس کی تحقیقی دنیا میں انقلاب بر پا کر دیا۔وہاں مجھے ایک نئے تحقیقی عنوان یعنی ہائی نمبر پچر سپر کنڈکٹر ز جیسی نئی ایجاد کا علم ہوا۔اور میں نے وہاں موجود سائینسدانوں سے ان کے لکھے ہوئے ریسرچ پیپرز بھی حاصل کئے جو ابھی کسی سائینسی جریدے میں شائع نہیں ہوئے تھے۔پاکستان واپس آکر میں نے اس نئی فیلڈ میں تحقیقی کام کا آغاز کیا۔پروفیسر سلام نے اس نئے ابھرتے ہوئے میدان کی اطلاقی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے آئی سی ٹی پی میں ہی ایک عملی تجربہ گاہ کے قیام کیلئے ایک خطیر رقم کا بندو بست کر لیا۔اس نئی تجربہ گاہ کو قائم کرنے والے چند ایک سائینسدانوں میں میں بھی شامل تھا اور ۱۹۸۹ء میں ایک سال تک وہیں رہ کر اس لیبارٹری کو قائم کیا اور بعد میں وہاں کام بھی کیا۔اس وقت سے اب تک اس شعبہ میں تحقیقی کام کرتے ہوئے میرے بائیس سے زیادہ مقالہ جات دنیا کے اعلیٰ ترین سائینسی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اور مزید ایک شائع ہونے والے ہیں۔مجھے