مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 158
(۱۵۸) برہم ہوا ئیں لاکھ مزاحم ہوئیں مگر۔دیوانہ وار موج نے ساحل کو جالیا جنوری ۱۹۷۸ء میں پاکستان دنیا کی نیوکلئیر فیوکل فیریکشن ٹیکنالوجی کی صف میں آن کھڑا ہوا۔پاکستان کی اس شاندار کامیابی کو مغربی میڈیا نے منفی رنگ دے کر بہت اچھالا۔اور پہلی بار اسلامی بمب کا شوشہ چھوڑا۔حالانکہ چشمہ بیراج کے اس کینڈو پلانٹ سے تیار کئے جانے والے نیوکلئیر فیول کا واحد مقصد کراچی کے ایٹمی بجلی گھر کو مقامی فیوکل مہیا کرنا تھا۔نہ ستائش نہ تمنا ہم نے یہ تاریخی پرا جیکٹ ملک و قوم کی خدمت کی سپرٹ کے ساتھ مکمل کیا تھا۔نہ کہ کسی ستائش یا تمنا کی خاطر۔ہم جو اس پلانٹ کے بانی تھے نام کے ، حکومت کے خصوصی ایوارڈ کیلئے ری کیمنڈ ہوئے۔لیکن مذہبی تعصب کی انتہا ملاحظہ ہو کہ محض اس بناء پر پوری ٹیم کو ایوارڈ سے محروم کر دیا گیا کہ اس ٹیم میں تو دو آفیسرز احمدی ہیں۔یہ وہی کہاوت ہوئی کہ دشمن کو مارنے کیلئے اپنوں کی لاشوں سے بھی گزرا جا سکتا ہے۔بہر کیف اپنے محکمے کی سترہ سال تک بے لوث خدمت کر نیکے بعد بہت بوجھل دل کے ساتھ مشکل حالات کے پیش نظر کینیڈا ہجرت کرنے پر مجبو ہو گیا۔جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا تھا اللہ تعالیٰ دونوں کو انسانوں پر پھیرتا ہے۔مجھے امید ہے کہ میرے پیارے وطن پاکستان کی فضاؤں پر جو عرصے سے تعصبات کے بادل چھائے ہوئے ہیں وہ جلد چھٹیں گے۔بانی پاکستان قائد اعظم کی خواہش کے مطابق کبھی نہ کبھی اس ملک کے درو دیوار پر حق و انصاف اور اخوت اور رواداری کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔جب کبھی ایسا وقت ایسا آئیگا۔تو گلستان وطن کے باسیوں سے صرف اتنی استدعا ہے :- ہمارا خوں بھی شامل ہے تزئین گلستان میں ہمیں بھی یاد کر لینا چمن میں جب بہار آئے XXX مرزا منور احمد ( گولڈ میڈلسٹ) پی اے ای سی میں ہیوی واٹر پلانٹ کی تیاری میں پرنسپل انجنئیر تھے