مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 137 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 137

(۱۳۷) آئین پاکستان کسی بھی قوم کی رہ نمائی اس کے سیاست دان ، مدبر ہمفکر اور دانشور کرتے ہیں اور جب یہی طبقہ منافقت و مصلحت کا شکار ہو جائے تو اس قوم کا یہی حال ہوتا ہے جو ہمارا ہے ، آج ہم میں کتنے ہیں جو اٹھ کر بآواز بلند سے یہ کہہ سکیں کہ یہ وہ پاکستان ہے جس کا وعدہ جناح صاحب نے ہندوستانی مسلمانوں سے کیا تھا کہتے ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ گیارہ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان کے قیام کے سلسلہ میں بانی پاکستان نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ پاکستان مذہبی ریاست نہیں ہو گا کہ اس ملک میں نسل زبان مذہب کو تفریق کا سبب نہیں ٹھہرایا جائے گا اس میں تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے عوام ہر مرتبہ تنگ نظر، مذہبی رہ نماؤں کو مسترد کر دیتے ہیں۔اور جمہوریت پسند، روشن خیال کے دعویدار سیاست دانوں کو حق حکمرانی سونپ دیتے ہیں۔مگر وہ اقتدار میں آنے کے بعد منافقت اور مصلحت پسندی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ہر جماعت اقتدار میں آنے کے بعد فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی ہے۔بانی پاکستان کے افکار کے دعویدار جماعتیں اسٹیلشمنٹ اور اشرافیہ کے سامنے جس قدر خوف زدہ رہتی ہیں اس کی بہترین مثال پاکستان کا آئین ہے۔اسٹیبلشمنٹ سے خوف زدہ ہو کر آئین میں ایسی تبدیلیاں یا ترامیم کیں کہ اس کو بانی پاکستان کی سیاسی سوچ سے یکسر متصادم آئین بنا کر رکھ دیا۔آج اگر عبد السلام اس محفل میں موجود نہیں اور وطن سے دور شدید اذیت کی زندگی بسر کر رہے ہیں اگر وہ وطن میں اپنی بے وقعتی پر غمزدہ ہیں اور پاکستان میں دوسرے درجہ کی شہری ہیں تو اس کا سبب نا تو بانی پاکستان ہیں اور نہ ہی پاکستانی عوام۔اس صورت حال کی تمام ذمہ داری ان جماعتوں پر عائد ہوتی ہے جو خود کو قائد اعظم کا وارث کہتی ہیں مگر عملاً ان کے افکار کی نفی کرتی ہیں۔اسکی ذمہ داری ان ترقی پسند اور روشن خیال افراد پر ہے جو پاکستان کے عوام کی عکاسی کرنے سے نا اہل ہیں اس المناک صورت حال کے ذمہ دار تمام ایسے دانش ور ہیں جو خوف سے بچ بولنے سے دامن بچارہے ہیں۔ڈاکٹر عبد السلام اس صدی میں طبیعات کے شعبہ کی عظیم ذہانتوں میں سے ہیں جس دھرتی سے