مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 126 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 126

(۱۲۶) گل کے ہائی انرجی فزکس کے لیکچروں نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا تھا چنانچہ ۱۹۷۰ میں جب مجھے اعلیٰ تعلیم کے لئے فرانس جانی کا موقعہ میسر آیا۔تو میں نے اپنی ریسرچ کا انتخاب ایلی مینٹری پارٹیکلز میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کیا۔نئے پارٹیکلز کے دریافت کا کام جو ساٹھ کی دہائی میں بڑے دھما کہ سے شروع ہوا تھا ستر کی دہائی میں وہ سرگوشی کے عالم میں ختم بھی ہو گیا۔بہت سارے نوجوان روشن دماغ فرے سسٹ دوسری فیلڈز میں ریسرچ کیلئے خود کو منتقل کر رہے تھے۔یہ صورت حال اس قدر مایوسی کا باعث ہو گئی کہ پیرس یو نیورسٹی میں صرف میں ہی اکیلا محقق رہ گیا جو نیوکلیر ای ملشن ٹیکنیک میں مصروف کار تھا دوسرے تمام ریسر چر زیا تو تھیورٹیکل ریسرچ میں گھس گئے۔یا انہوں نے Bubble chamber کو تجر باتی تحقیق کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا تاہم میں نے اپنی ریسرچ ایل می سان L-Meson کی دریافت میں ہی رکھنا مناسب سمجھا۔اسکے موجود ہونے کی پیش گوئی میرے سپر وائزر Tsai Chu اور چند فرنچ تھیوری ٹیشن نے کی تھی۔مگر یہ میرے لئے چیستان ثابت ہوئی بلآخر میں نے اس ہا پو تھے ٹیکل پارٹیکل کو مسترد کر دیا اور پیرس یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ میرے نگران پروفیسر کی مخالفت کے باوجود حاصل کر لی۔ٹریسٹ میں ورود جب ۱۹۷۲ء میں میں پیرس سے الوداع ہو رہا تھا تو ایک سنہری موقعہ میرے ہاتھ آ گیا وہ یہ کہ میں ٹریسٹ میں ریسرچ کا کام کروں جہاں پر و فیسر عبد السلام نے آئی سی ٹی پی کا ادارہ قائم کر رکھا تھا اور جس کا نصب العین پس ماندہ ممالک کے روشن دماغ نوجوان سائینس دانوں کی علمی مدد کرنا تھا لیکن چونکہ میں گھر سے اتنا عرصہ دور رہنے کی وجہ سے سخت اداس ہو چکا تھا اور میں جلد از جلد انڈیا واپس لوٹ جانا چاہتا تھا۔اس لئے واپسی سفر کے راستہ کے دوران و فیس کے خوبصورت شہر کے علاوہ یوگوسلاویہ کے بعض ٹورسٹ ریسارٹ کو دیکھا جو ایڈریاٹک Adriatic کے ساحل پر واقع ہیں میرا گزر ٹریسٹ شہر میں سے بھی ہو انگر عبد السلام کو ملے بغیر۔ٹریسٹ شہر سے یہ میری پہلی جان پہچان تھی مگر اس شہر میں مقیم تیسری دنیا کے سائینس دانوں کے پیامبر سے ملاقات کے موقعہ کو میں نے کھو دیا جو یہاں مقیم تھا۔