مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 105
(1+0) نے بل استعیاب مطالعہ کیا ہوا تھا اور اکثر حضور کے فارسی اور اردو اشعار موقع کی مناسبت سے سناتے تھے چوہدری صاحب کو بھی فارسی شعراء میں سے حافظ کے ساتھ عشق تھا اس لحاظ سے مکرم ڈاکٹر صاحب اور چوہدری صاحب کی طبیعتیں آپس میں بہت ملتی تھیں۔صوفی شعراء میں دونوں بزرگوں کو مولینا روم سے عشق کی حد تک عقیدت تھی اور ان کے صدیوں اشعار یاد تھے اس طرح بعض اوقات تو پوری محفل پر حافظ درومی چھائے رہتے تھے۔چوہدری صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فارسی شاعری سے بہت لگاؤ تھا اور اگر میں یہ کہوں کہ انہیں قریباً حضور کی فارسی شاعری کا سارا دیوان حفظ تھا تو مبالغہ نہ ہوگا۔ڈاکٹر صاحب مرحوم و مغفور کو چوہدری صاحب سے بے انتہا محبت تھی۔اکثر اپنے ذاتی معاملات میں ان سے مشورہ طلب کیا کرتے تھے اور جو بھی مشورہ وہ دیتے اس پر عمل پیرا ہوتے۔خاکسار کے لندن آنے کے کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر صاحب کے والد محترم چوہدری محمد حسین صاحب بھی لندن آگئے۔ڈاکٹر صاحب کو اپنے والدین سے عشق تھا اور ان کا بہت خیال رکھتے تھے۔جو بھی بڑے بڑے لوگ، سیاست دان، سائینسدان ان سے ملنے کیلئے آتے انہیں وہ اپنے والد محترم سے ضرور ملواتے۔ایک دفعہ ڈاکٹر صاحب کی ملاقات ڈیوک آف ایڈ نبرا سے طے ھوئی تو وهان وہ اپنے والد کو بھی ساتھ لے گئے اور ان کی ملاقات ڈیوک سے کروائی۔ایک خواب ایک روز ڈاکٹر صاحب خاکسار کے پاس مشن ہاؤس تشریف لائے اور فرمایا کہ ان کے والد گھر میں بیٹھے بیٹھے اکتاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں اس لئے ان کی خواہش ہے کہ وہ انہیں صبح میرے پاس مشن ہاؤس میں چھوڑ جایا کریں۔اور شام کو امپرئیل کالج آف سائینس، میڈیسن اینڈ ٹیکنالوجی سے واپس آتے ہوئے گھر لے جایا کریں۔اس طرح مشن ہاؤس میں ان کا دل لگے رہے گا۔احمدی دوستوں سے ملاقات کا بھی موقع ملتا رہے گا۔خاکسار نے عرض کیا بڑی خوشی سے انہیں لے آیا کریں۔جماعت کی تربیت کے سلسلہ میں ہم ان کی خدمات سے مستفید ہو نیکا پروگرام بنالیں گے۔اس طرح ایک تو انکا دل