مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 104
(۱۰۴) بشیر احمد خان رفیق ( سابق امام مسجد ، لندن) اخلاق حسنہ کا گلدستہ کے خاکسار پہلی مرتبہ بر طانیہ فروری ۱۹۵۹ء میں پہنچا۔محترم ڈاکٹر عبد السلام ان دنوں پٹنی کے علاقہ میں جو مسجد فضل لندن سے ایک میل کے فاصلہ پر واقع ہے رہائش پذیر تھے اور امپیرئیل کالج لندن میں پروفیسر تھے۔مسجد فضل میں نماز ادا کرنے کیلئے تشریف لاتے تو عاجز کو بھی شرف ملاقات حاصل ہوتا۔یوں تو ان کے مرتبہ اور علمی مقام کے لحاظ سے خاکسار کی حیثیت ان کے مقابلے میں کوئی خاص نہ تھی لیکن وہ بحیثیت مبلغ جماعت احمدیہ کے میرے ساتھ بہت محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے۔اور گاہے بگا ہے اپنے دولت کدہ پر مجھے بھی مدعو فر ماتے تھے۔عام طور پر آپ اپنے دوستوں کو اتوار کے روز ناشتہ کیلئے دعوت دیتے تھے۔ناشتہ کیا ہوتا پورا دو پہر کا کھانا ہوتا تھا کھانے کی میز انواع و اقسام کی ڈشز سے بھری ہوتی تھی ڈاکٹر صاحب کے دوست اور مداح نہ صرف ناشتہ سے لطف اندوز ہوتے تھے بلکہ ان کی علمی گفتگو۔حالات حاضرہ پر تبصرے اور شعر و شاعری میں ان کے اعلیٰ مذاق سے بھی لطف اندوز ہوتے تھے۔بعد میں جب چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب نے بھی لندن مستقل رہائش اختیار کر لی تو پھر ان کا یہ معمول ہو گیا کہ جب بھی لندن میں ہوتے اتوار کے روز ناشتہ پر چوہدری صاحب کو بھی ضرور بلاتے۔خاکسار بھی اکثر ان مجالس میں شامل ہو جاتا۔ڈاکٹر صاحب مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے سائنسی علوم کی نعمت سے تو مالا مال کیا ہی تھا۔اس کے ساتھ ہی آپ کو شعر و شاعری ، اردو، انگریزی ادب اور تاریخ کے علم سے بھی وافر حصہ عطا کیا گیا تھا۔فارسی شعراء میں حافظ آپ کے دل پسند شاعر تھے اور حافظ کے سینکڑوں اشعار ازبر تھے موقع محل کی مناسبت سے ان اشعار کو سنانا آپ کو لطف دیتا تھا۔حضرت بانی جماعت احمدیہ کی شاعری کا بھی آپ