مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 90 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 90

(۹۰) ابو ذیشان ڈاکٹر عبد السلام میری یادوں کے آئینہ میں ہے زندگی میں کئی ایک سیاست دانوں جیسے بھاشانی۔بھٹو۔شاعروں اور ادیبوں فیض ، جوش، ابن انشاء، رئیس امروہوی نیز وزیر اعظموں ٹروڈو، مرونی، جان کیرتین کو سنے اور دیکھنے کا موقعہ نصیب ہو امگر جس مرد کامل نے میرے ذہن اور قلب پر انمٹ نقش چھوڑا ، ان میں ڈاکٹر عبدالسلام ( نور الله مر قدہ) کی قد آور شخصیت میری حسین یادوں کی لوح پر سب سے نمایاں ہے۔ان کی ذات والا صفات سے میرا تعارف پہلی بار احمد یہ ہال کراچی میں ۱۹۶۷ء کے لگ بھگ ہوا، جب آپ وہاں ایک بار نماز جمعہ ادا کرنے آئے تھے۔میں نے دیکھا کہ نماز کے بعد بہت سے اخباری فوٹوگرافر اور نمائندے آپ کی تصاویر لے رہے تھے۔میرے استفسار پر میرے دوست نے مجھے بتلایا کہ آپ بہت بڑے سائینس دان ہیں میں نے آگے بڑھ کر مصافحہ کیا مگر اس کے سوا کچھ کہہ نہ سکا کیونکہ لوگوں کا ایک جم غفیر آپ سے ملنے کو مشتاق تھا۔پھر ایسا ہوا کہ اس کے بعد امیر صاحب نماز جمعہ میں کئی سال تک دعا کا اعلان کرتے رہے کہ دوست دعا فرمائیں اللہ تعالیٰ ڈاکٹر عبد السلام صاحب کو نوبل انعام عطا فرمائے۔اور یوں ہم دانستہ طور پر کئی ایک سال تک اس دعا میں شامل ہوتے رہے۔پھر ایک بار ایسا ہوا کہ آپ نے ریڈیو پاکستان پر تقریر کی تو ہم نے اسے بصد اشتیاق سنا۔اور جب کبھی کراچی کی بندر روڈ پر ریڈیو پاکستان کے سٹوڈیو کے پاس سے گزر ہوتا تو معصومیت سے دل میں کہہ لیتے کہ ڈاکٹر صاحب نے یہاں تقریر کی تھی۔جب ۱۹۷۹ء میں آپ کو نوبل انعام سے نوازا گیا۔تو میں نے ٹورنٹو کے ایک کمیونٹی اخبار میں آپ کی اس عظیم الشان کامیابی پر انگریزی میں ایک مضمون لکھا اور اس کی کاپی آپ کو لندن بھجوائی۔آپ