مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 286
(۳۸۶) اسلامی دنیا کے ایک عام قاری کو رموز فطرت سے آگہی بخشتا ہے۔اور جو صرف علمی و تحقیقی لا سمیر سریوں ہی کیلئے نہیں پاکستان کے ہر محب وطن کیلئے ایک ایسے خزینے کا حکم رکھتا ہے جو اسے اپنے روشن ماضی اور خوشگوار مستقبل سے آگاہ کرتا ہے۔دبیز دور نگا مصور سرورق۔عمدہ ٹائیپ۔بہترین طباعت۔اور قیمت صرف پانچ ڈالر۔(لا ہور ، مؤرخہ ۱۷۔اگست ۱۹۹۶) (۳) جناب ڈاکٹر پر ویز پروازی صاحب اپسالا ، سویڈن) نے فرمایا (۳۱ اکتوبر ۱۹۹۶ ) عزیزم محمد زکر یا ورک نے ، عبد السلام سائینس اکیڈیمی کی جانب سے رموز فطرت کے عنوان سے دنیائے سائینس کے مہر درخشاں ڈاکٹر عبد السلام کی شخصیت اور ان کے کارناموں کے بارہ میں کتاب شائع کی ہے جس میں پروفیسر سلام کے بارہ میں مختلف اہل علم کے مضامین جمع کر دئے گئے ہیں۔یہ کتاب اپنی افادیت کے لحاظ سے منفرد ہے اور ان لوگوں کیلئے جو پر وفیسر عبد السلام کی شخصیت اور ان کی تھیوری کے بارہ میں علم نہیں رکھتے بہت مفید کتاب ہے۔اللہ تعالیٰ مرتب کو جزا دے کہ انہوں نے ایسے وقت میں جب پروفیسر سلام اپنی علالت کے باعث تمام عالم اسلام کی دعاؤں کے مستحق ہیں۔یہ مفید کتاب شائع کی ہے۔اس کتاب کا نام مرتب نے رموز فطرت رکھا ہے۔عنوان سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرتب کے ذہن میں محض پر وفیسر سلام ہی کے بارہ میں مواد جمع کرنیکا خیال نہیں۔با ایں ہمہ کتاب کی افادیت مسلمہ ہے۔کم از کم میرے علم میں بہت سی باتیں پہلی بار آئیں ہیں۔میں پروفیسر عبد السلام کو کوئی تمہیں برس سے جانتا ہوں۔تعلیم الاسلام کالج ربوہ سے ان کا گہرا تعلق رہا۔حالانکہ وہ اس کالج کے طالب علم نہیں رہے۔مگر جب بھی ربوہ تشریف لاتے تو کالج میں اور خاص طور پر کالج کے نیو کیمپس میں تو ضرور ہی آتے۔کالج کا نیو کیمپس عملا کالج کا فزکس کا ڈی پارٹمنٹ تھا۔پروفیسر نصیر احمد خاں مرحوم نے رات دن کی محنت سے اس پودے کو سینچا تھا۔اور جنگل میں منگل کر دیا تھا۔تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے فزکس کے پوسٹ گر یجو کیٹ شعبہ کو ملک کے تمام حصوں میں نامور بنانے کیلئے انتھک محنت کی ضرورت تھی۔پروفیسر نصیر احمد خاں