مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 14 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 14

(۱۴) ہے۔اگر ہم اپنے بڑہاپے میں اچھے سلوک کی امید رکھتے ہیں تو پھر ہمیں ابھی سے اپنے بزرگوں سے اچھا سلوک کرنا ہو گا جب بھی کبھی ایسا موقعہ پیدا ہو تو بزرگوں سے بہترین سلوک ہمیشہ مد نظر رہے۔جتنی بار بھی ممکن ہو ایا جتنا زیادہ سے زیادہ ہو سکا آپ اس قاعدہ یا دستور میں استثنیٰ بھی پیدا کر دیتے اور وقت نکال کر اماں جی کے ساتھ بیٹھ جاتے بعض دفعہ باتیں کرنے کیلئے یا بعض دفعہ ایک دوسرے کی معیت میں خموشی کی حالت میں وقت گزارتے۔ہاں بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ ساتھ کے ساتھ ٹیلی ویژن بھی دیکھ لیا۔آپ اماں جی کو اپنے محبوب مزاحیہ ادا کاروں سے بھی متعارف کراتے میں اپنے حافظہ پر زور دے کر اپنی یادداشت کے نہاں خانے سے یہ چیز نکال سکا ہوں کہ آپ صرف خبریں یا مزاحیہ پروگرام ہی دیکھا کرتے تھے۔خاموش فلموں میں ایکٹر جب الٹی سیدھی حرکتیں کرتے خاص طور پر چارلی چپلین Chaplin تو پھر آپ دنیا ما فیہا سے بلکل بے خبر ہو جاتے تھے۔بعض دفعہ آپ پر زور قہقہہ لگاتے کہ دوسرے لوگ بھی بے اختیار ہنسنا شروع کر دیتے اور ہم بچے آپ کو دیکھ کر اس ہنسی میں شامل ہو جاتے۔اس چیز سے بلکل بے خبر کہ بلیک اینڈ وہائٹ ٹیلی ویژن سکرین پر کیا ہنگامہ ہو رہا ہے۔ہم ایسے پروگراموں کو کبھی بھی ختم نہیں ہو دینا چاہتے تھے کیونکہ پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ٹیلی ویژن بند کر دیا جائیگا۔اور ہر کوئی اپنے اپنے کام میں مصروف ہو جائیگا۔بلا شبہ وقت اور مدوجزر کسی کا انتظار نہیں کرتے - Time & tide wait for no man۔اچھی گفتگو ہمارے ابا جان کی اچھی گفتگو میں کبھی کوئی خامی تلاش نہیں کر سکتا تھا۔آپ اس میں مہارت تامہ رکھتے تھے ہم نے آپ کو کبھی بھی فضول باتوں میں مشغول نہ پایا۔بلکہ پاکستانی قوم کی ایک قومی عادت جس سے وہ بہت خفا ہوتے تھے وہ گپ شپ ہانکنے کی بری عادت تھی یعنی یا رلوگوں کا ہجوم بنا کر بیٹھ جانا اور بیکار اور لغو بے معنی باتوں میں وقت ضائع کرنا۔جب آپ کسی کے یہاں دعوت پر مدعو ہوتے تو شام کے وقت ان دعوتوں میں غیر ضروری گفتگو میں وقت ضائع کرنا آپ غیر مناسب سمجھتے تھے۔آپ میزبان سے معذرت کے ساتھ جلد ہی