مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 83 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 83

(۸۳) ہے کیونکہ یہ بہت گراں اور قابل قدر سرمایہ مانگتے ہیں۔اور ان کے لئے بہت سارے سائینسی آلات کی ضرورت ہوتی ہے مثلا سرن CERN میں ہونے والے دو تجربات کرنے کے لئے ان پر ۱۵۰ تجربات کئے گئے تھے جس نے اس تھیوری کو سچا ثابت کیا۔پھر سائینسی تجربات نا قابل یقین سائز کے ہوتے ہیں جن مشینوں سے (ایٹم یا دوسرے ذرات) کو تلاش کیا جاتا ہے وہ تین منزلہ عمارت کی اونچائی کے برابر ہوتے ہیں۔سوال۔۔۔کیا آپ کی فیلڈ میں بہت مقابلہ بازی ہے؟ جواب۔۔۔جی ہاں اس فیلڈ میں سرگرم اور فعال تھیوری ٹیشن کی تعداد قریب پانچ ہزار کے قریب ہے۔اور اتنی ہی تعداد تجربات کرنے والے ماہرین کی ہے اور پھر نو جوان ہونا بھی اس میں شرط ہے جیسا کہ آپ جانتے ہی ہیں۔سوال۔۔۔ایسا (یعنی جوانی کی شرط) کیوں ہے؟ کیا آپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ جوانی میں انسان بہتر ہوتا ہے؟ جواب۔۔۔نہیں، ایسا نہیں ، در حقیقت انسان جوانی میں زیادہ بوجھ نہیں اٹھائے ہوتا ہے انسان ماضی میں زندہ نہیں رہتا ہے انسان اپنی ناکامیوں پر کف افسوس نہیں ملتا ہے انسان نئے نئے آئیڈیاز کو مختلف طریقوں سے آزمانے پر کچھ زیادہ آمادہ ہوتا ہے۔اس کے برعکس زیادہ عمر کے سائینس دان زیادہ بوجھ اس لئے اٹھائے ہوتے ہیں کہ ان کے کندھوں پر انتظامی ذمہ داریاں ہوتی ہیں تا کہ تمام کام چلتا رہے۔اور دیگر اس سے ملتی جلتی ذمہ داریاں۔مگر اس سے زیادہ یہ ہے کہ انسان ماضی میں جن آئیڈیاز کو آزما چکا ہوتا اور ان میں نا کام ہو چکا ہوتا وہ خود کو ان سے آسانی سے آزاد نہیں کر سکتا ہے، کیونکہ انسان سوچتا کہ فلاں آئیڈیا تو ختم ہو چکا ہے جبکہ فی الحقیقت وہ خاص طریق کار اور approach ختم ہو چکی ہوتی ہے جو آپ نے اس خاص آئیڈیا کے لئے استعمال کیا ہوتا۔میرے نزدیک جتنے زیادہ آپ نو عمر ہوں گے اتنا ہی بہتر ہے بشرطیکہ آپ یہ رسک لے سکتے ہوں۔