مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 78 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 78

(۷۸) یہ مشورہ نہایت موزوں تھا۔مگر اتنا عرصہ تجربات نہ کرنے کی وجہ سے یہ سال میرے لئے تجرباتی کام کرنے کے لئے بہت جان جوکھوں والا تھا فی الحقیقت یہ میرے طالب علمی کے زمانے کا سب سے مشکل ترین سال تھا۔سوال۔۔۔آپ نے کس چیز کو بہت مشکل پایا ؟ جواب۔۔۔تجربات کرنے کیلئے رجحان ( کا مفقود ہونا ) یہ بات بہت دلچسپ ہے کیونڈش لیبا رٹری میں یہ روایت تھی کہ ( تجربات کرنے کیلئے اعلیٰ قسم کا ساز وسامان نہیں دیا جا تا تھا صرف رہی اور sealing wax دی جاتی تھی اور طالب علم کو بد دل کرنے کیلئے ہر طرح کی رکاوٹ پیدا کی جاتی اور آپ کو اس رکاوٹ کو دور کرنا ہوتا تھا۔اس ضمن میں جو سب سے پہلا تجر بہ جو مجھے کرنے کیلئے دیا گیا وہ موم Measure the difference in wave length of 2 sodium D lines, the most promient lines in the sodium spectrum۔میں نے سوچا کہ اگر میں نے گراف پر ایک سیدھی لکیر کھینچی۔تو اس لکیر کو کاٹنے والی لکیر یعنی intercept سے مجھے وہ مطلوبہ کو انٹی مل جائیگی جس کو میں نے ماپنا تھا۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں ایک سیدھی لکیر ریاضی میں دو نقاط سے بیان کی جاتی ہے اس لئے اگر آپ ایک اور ریڈنگ لیں تو ریاضی کے اصولوں کے مطابق یہ کافی ہے کیونکہ اب اس لائن پر تین نقاط ہوں گے دوسیدھی لکیروں کو بیان کر نے باڈی فائن کرنے اور تیسرا ، اس چیز کو confirm کرنے کے لئے۔مجھے اس ایکس پیر منٹ کی تیاری میں تین روز لگ گئے۔اس کے بعد میں نے ریڈنگ لیں اس Sir D۔زمانہ میں تجر بہ میں ملنے والے نمبر فائینل میں بھی شامل کئے جاتے تھے سر ڈینیس ولکن سن Wilkinson جو اس وقت Sussex یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے وہ میرے تجربہ کو چیک کرنے والوں میں سے ایک سپر وائزر تھے لہذا میں اپنا ایکس پیری مینٹ ان کے پاس لے گیا انہوں نے میری سٹریٹ لائن کو بغور دیکھا اور پوچھا : تمہاری بیک گراؤنڈ کیا ہے؟