مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 77
(<6) تو یوں اس فنڈ کے قیام کا مقصد اور ان وظائف کا دیا جانا شاید صرف اور صرف میرے لئے مقدر میں لکھا ہوا تھا۔سوال۔۔۔آپ کے خیال میں کیا اس میں قسمت کا بھی کوئی دخل ہے کیونکہ ان واقعات میں ہر واقعہ محض اتفاقی معلوم ہوتا ہے؟ جواب۔۔۔ہاں یقیناً۔میرے والد محترم جو بہت مذہبی اور نیک انسان تھے کہا کرتے تھے کہ میری کامیابیاں ان کی دعاؤں کا ثمرہ ہیں۔وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا علم کے کسی برانچ میں ضیاء پاشیاں کرے۔وہ مجھے سول سرونٹ بنانا چاہتے تھے مگر جب میں نے فیصلہ کیا کہ میں ریسرچ میں زندگی گزاروں گا تو انہوں نے اس کو مناسب جانا اور میری ہر طرح دلجوئی کی۔مگر واقعات کا پورا سلسلہ یعنی میرا سکالرشپ حاصل کرنا صحیح وقت پر میرا کیمبرج پہنچ جانا ، پھر میری - sequence of events سائینس میں دلچسپی کا اظہار ، ان کے خیال میں اس کے پیچھے کوئی خاص قوت کا رفر ماتھی۔سوال۔۔۔جب آپ کیمبرج پہنچے تو کیا آپ فورا تھیور ٹیکل فزکس میں ہمہ تن مشغول ہو گئے؟ جواب۔۔۔نہیں ہر گز نہیں۔میں نے ریسرچ کا کام ریاضی میں شروع کیا، کیونکہ میری بیک گراؤنڈ اس مضمون میں تھی مگر رفتہ رفتہ ریاضی میں دو سال صرف کرنے کے بعد میں نے اپنی فیلڈ تھیورٹیکل فزکس چن لی۔اس وقت مشہور زمانہ سائینس دان پال ڈائیراک Paul Dirac وہاں لیکچرار تھے اس لئے میں ان کے لیکچروں میں شامل ہو گیا پھر میرے سکالرشپ کا تیسر ا سال بھی تھا میرے پاس اب یہ چاکس تھا کہ آیا میں ریاضی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کروں یعنی Part Il of Math۔Tripos : Part II of Math, Tripos یا پھر فزکس ٹرائی پوز کروں؟ میرے اساتذہ میں سے ایک استاد شہرہ آفاق اسٹرا نومر فریڈ ہوئیل Fred Hoyle تھے میں ان کے پاس مشورہ کی غرض سے گیا کہ اب کیا کروں؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر تم فرسٹ بننا چاہتے ہو چاہے تھیو رٹیکل فرسٹ ہی، تو تمہیں کیو نڈش لیبارٹری cavendish میں تجرباتی کورس ضرور کرنا چاہئے اس کے بغیر تم تجرباتی طبیعات دان کو کبھی بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کر سکو گے۔