مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 76 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 76

(۷۶) وجہ سے تمام آئی سی ایس کے امتحانات بند تھے۔جنگ کے معاً بعد بھی سول سروس کے امتحان منعقد نہ ہو رہے تھے میں یونیورسٹی آف پنجاب سے ایم اے ریاضی مکمل کر چکا تھا اور مجھے کیمبرج میں اعلیٰ تعلیم کے لئے وظیفہ ملا تھا۔سوال۔۔۔گویا آپ کا ذہن اور فطری رجحان سائینس کی طرف چھوٹی عمر سے تھا ؟ جواب۔۔ہاں پہنی یا سائینسی رجحان تو ٹھیک ہے مگر میں ریاضی کی تعلیم اس لئے نہیں حاصل کر رہا تھا کہ ریسرچ کروں گا۔بلکہ اس کا مقصد سول سروس امتحان میں اعلیٰ نمبر حاصل کرنا تھا۔گویا یہ نمبر حاصل کر نیکی ایک ترکیب تھی۔سوال۔۔۔تو گویا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے دل میں سائینس کیلئے شدید خواہش چھپی ہوئی ضرور تھی؟ جواب۔۔۔میں سائینس کے مضامین پر دسترس ضرور رکھتا تھا۔کچھ ہی روز پہلے میں سوچ رہا تھا کہ میں نے سب سے پہلا ریسرچ پیپر سولہ سال کی عمر میں تصنیف کیا تھا جو ریاضی کے ایک جرنل میں شائع ہوا تھا۔یعنی ریسرچ کے لئے فطری رجحان ضرور تھا مگر اس کیلئے کوئی موٹی ویشن نہیں تھی۔البتہ کیمبرج میں دو سال کی ریسرچ کے بعد میں اس اکھاڑے میں پوری دلجمعی سے اتر چکا تھا۔سوال۔۔۔آپ کا کیمبرج یونیورسٹی جانا کیسے ممکن ہوا؟ میرا کیمبرج جانا ایک سکالر شپ جس کا نام سال پیزنٹ ویلفیئر فنڈ smal جواب۔۔۔۔میرا peasant welfare fund تھا۔اسکے ذریعہ ممکن ہوا یہ فنڈ اس وقت کے پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے قائم کیا تھا۔سوال۔۔۔کیا آپ کے خاندان کا پس منظر زراعت میں ہے؟ جواب۔۔۔جی ہاں اگر چہ میرے والد سول سرونٹ تھے مگر ان کے پاس زرعی زمین کا قطعہ تھا جس کی بناء پر وہ پیزنٹ فنڈ کے معیار پر پورے اترے اس لئے مجھے ان وظائف میں سے ایک وظیفہ دیا گیا اور مزے کی بات یہ ہے کہ صرف پانچ وظائف مقرر کئے گئے مگر میرے علاوہ چار طلباء کو یو نیورسٹی میں اس سال داخلہ نہ مل سکا۔پھر بر صغیر کی تقسیم عمل میں آگئی اور یہ وظائف خود بخود ختم ہو گئے