مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 57 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 57

(۵۷) موجود ہوتے تھے۔ان کے پروگرام میں شامل ہوتا تھا کہ پہلے میرے ہاں تشریف لائیں گے۔سب کو بتا دیتے تھے کہ اس وقت کا کھانا میری بہن کے ہاں ہے اس کے بعد اگلا پروگرام ہوگا۔میں نے بھی ان کی پسند کا کھانا تیار کیا ہوتا تھا۔فرائی مچھلی بہت پسند تھی۔سب کچھ چھوڑ کر مچھلی ہی نوش فرماتے۔اباجی مرحوم کی ایک پلیٹ میرے پاس تھی اس میں میں نے انار کے دانے نکال کر ان کے آگے رکھے اور بتایا کہ یہ ابا جی کی پلیٹ ہے۔پہلے درود شریف پڑھا۔پھر دانے اٹھا کر کھائے ، ہرنئی چیز کھانے سے پہلے درود شریف ضرور پڑھتے تھے۔کھانا کھانے کے دوران سب رشتہ داروں کا حال کا پوچھتے۔وقت محدود ہوتا تھا۔ایک روز مجھے کہا کہ تم سب بہن بھائیوں کے بچوں کے نام مجھے لکھ کر دو تا کہ میں سب کیلئے نام بنام دعا کیا کروں۔ابا جی اور اماں جی کی وفات کے بعد ہم سب کی ذمہ داری انہوں نے آخری وقت تک ادا کی۔میں کیا لکھوں؟ وہ شخص تو سراپا محبت و خلوص تھا۔خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ، بندوں سے اپنے پیارے خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق نیک سلوک کرنے والا۔کبھی کسی سے رنجش نہیں۔کسی سے گلہ نہیں۔مسکراتے ہوئے بات کرنا۔ہر اک کا دکھ بانٹنا۔اللہ کریم ان کو اپنے قرب میں اعلیٰ مقام بخشے۔آمین لکھنے کی باتیں تو بہت ہیں۔ان کی زندگی تو صحیح طور پر ابا جی کو کشف میں بتائے ہوئے نام عبد السلام ، یعنی سلامتی کا بندہ کی مصداق تھی۔رہتی دنیا تک ان کے نیک کام اور محبت ہر دل میں رہے گی۔اللہ تعالیٰ ان کی بیویوں ، بچوں اور جملہ لواحقین کو صبر عطا کرے اور خود ان کا حافظ و ناصر ہو۔اس وقت تو میرے ذہن میں اسی طرح کی باتیں ابھر کر میرے سامنے آئی ہیں اللہ نے چاہا تو جلد ان کی یاد میں ایک اور مضمون صفحہ قرطاس کروں گی۔یہ مضمون ابھی تشنہ تکمیل ہے۔