مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 52 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 52

(۵۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیش گوئی کا مصداق تھے آپس میں دوستی اور اخوت کو ساری عمر نبھایا جس کا آغاز بھی عجیب طریق سے ہوا۔ابی نے ۱۹۴۶ء میں برطانیہ کے لئے سفر کیا اور ان کا جہاز لیور پول کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا۔ایک ناقابل یقین اتفاق سے چوہدری صاحب جو اس وقت سپریم کورٹ آف انڈیا کے جج تھے۔اس بندرگاہ پر اپنے بھتیجے کو لینے کے لئے تشریف لائے تھے ابا جان کا کتابوں سے بھرا بھاری سوٹ کیس کسٹم شیڈ میں پڑا تھا۔اس وقت وہاں کوئی پورٹر نہ تھا چو ہدری صاحب میرے والد کو شش و پنج میں دیکھ کر صورت حال کو بھانپ گئے۔چنانچہ انہوں نے سوٹ کیس ایک طرف سے اٹھایا اور ٹرین تک پہنچا دیا۔پھر چوہدری صاحب نے دیکھا کہ ابی یخ بستہ ہوا سے بری طرح ٹھٹھر رہے تھے تو انہوں نے اپنا اور کوٹ اتار کر ان کو دے دیا یہ اور کوٹ ابا جان نے سالہا سال تک استعمال کیا۔اور اب بھی میدان کے بھائیوں میں سے کسی ایک کے پاس محفوظ ہے۔ابا جان جب بھی لندن میں قیام پذیر ہوتے تو چوہدری صاحب اتوار کے روز ناشتہ کے لئے ضرور تشریف لاتے ناشتہ کی میز پر دو عظیم انسانوں کے درمیان ہونے والی گفتگو بہت دلچسپ ہوتی جو مذہب۔سیاست۔اور دیگر موضوعات پر ہوتی تھی۔میرے ابا جان احباب کو اپنے گھر مدعو کرنا بہت پسند کرتے تھے جسے وہ شہر کا بہترین ریستوران کا نام دیتے تھے جو کہ فی الحقیقت میری امی جان کے کھانا پکانے کی مہارت کو خراج عقیدت تھا۔ان کے مہمانوں میں وزیر۔ڈپلومیٹ۔غیر ملکی اعلیٰ عہدیدار۔پروفیسرز اور بعض دفعہ ان کے طالب علم بھی ہوتے تھے۔زندگی کے آخری ایام میں ابا جان کو پیرا سپرانے کلئیر پالسی Para Supranuclear palsy کا عارضہ لاحق ہو گیا۔اس مرض کے بارہ میں انسانی علم ابھی تک محدود ہے اگر چہ ان کا دماغ اور فہم و فراست آخری دم تک برقرار رہے۔مگر ان کے پٹھے رفتہ رفتہ کمزور ہو کر ضائع ہو گئے۔ابی کے یقین کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے یہ حالت بغیر کسی آہ و بکا کے قبول کر لی تھی۔اگر چہ ان کو بیماری کی آئندہ حالت کی پیش بینی کا شروع سے علم تھا۔پھر بھی ہم نے علالت کے دوران ان کو شکوہ شکایت کرتے یا بیماری کی شدت کے باعث گریہ زاری کرتے ہوئے نہ دیکھا۔