مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 40 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 40

(۴۰) اور وائن برگ (سائینسدانوں) کو لباس کے معاملہ میں مات کر دیا۔میرے خام خیال کے مطابق اس زرق برق کا بڑا مقصد شاید یہی تھا۔سلام کی علالت یہ چیز یقینا ٹریجڈی ہے کہ ایک ایسا انسان جو اس قدر چاق و چوبند اور فل آف لائف ہو جیسا کہ عبد السلام تھا۔وہ ایسی نحیف کر دینے والی مرض کا ہدف بنا اسکا joie de vivre یعنی جائے آف لونگ بہت حیرت انگیز اور نرالا تھا۔اورس کی پر لطف جنسی جو غراتے ہوئے سی لائن سے بہت مشابہت رکھتی تھی۔وہ امپیرئیل کالج کے تھیوری گروپ کے ہالوں اور کمروں میں گونجتی رہے گی اور اس کی یاد کو تازہ اور زندہ کرتی رہیگی۔جب با کمال انسانوں کے اچھے اعمال کو یاد کیا جاتا ہے تو اکثر یہ معقولہ سننے میں آتا ہے He did not suffer fools gladly یعنی وہ سادہ لوح افراد کی حماقتوں کو برداشت نہ کرتا تھا۔لیکن سلام سے متعلق میری امپرئیل کالج کی یادیں اس سے بلکل برعکس ہیں۔۔دنیا بھر سے لوگ اس سے ملنے کے لئے بڑے اشتیاق سے آتے۔اور اسکے دروازہ پر دستک دیتے تا وہ اپنی تازہ عجیب الخلقت تھیوریز اس کے سامنے پیش کر سکیں ان میں سے بعض تھیوریز بے سروپا ہو تیں لیکن اس کے باوجود سلام ان لوگوں سے یہ تمام خوش خلقی اور عزت و وقار کے ساتھ پیش آتا تھا۔شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ خود اس کے اپنے خیالات انو کھے قسم کے ہوتے تھے جس کی وجہ سے وہ دوسروں کے خبطی اور نرالا پن کو آسانی سے برداشت کر لیتا تھا۔وہ دوسروں کے آئیڈیاز میں حکمت کے موتی شناخت کر لیتا تھا جبکہ دوسرے لوگوں کو ان میں صرف ہیجان پیدا کرنے والے ریت کے ذرات نظر آتے تھے۔اس امر کی واضح اور روشن مثال وہ نوجوان اسرائیلی ملٹری اتاشے تھا جو لندن کے سفارت خانے میں متعین تھا وہ ایک روز پارٹیکل فزکس پر اپنے خیالات کا تبادلہ کرنے چلا آیا سلام اس سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے اس نو جوان کو اپنی تربیت میں لے لیا۔یہ سائینسدان یو وال نی مان Neeman تھا اور اس کے تھیوری کا ما حصل وہ نئی تھیوری تھی جس کا نام فلیور (3)SU ہے۔